مواد پر جائیں

افغانستان نے چینی اور ازبک کمپنیوں کو کان کنی، زراعت، توانائی اور صنعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی

وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے ترمذ میں کہا کہ افغانستان کان کنی، زراعت، خوراک کی پراسیسنگ، توانائی، مینوفیکچرنگ، مشینری اور بنیادی ڈھانچے میں چینی و ازبک سرمایہ کاری کے لیے سہولت دینے کو تیار ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

افغانستان نے چینی اور ازبک کمپنیوں کو ملک کے اہم اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ اریانا نیوز کے مطابق وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے ازبکستان کے شہر ترمذ میں سرخندریا چین تجارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سرکاری اور کاروباری وفود کے تبادلوں نے تجارت، ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

عزیزی نے کان کنی، زراعت، خوراک کی پراسیسنگ، توانائی، مینوفیکچرنگ، مشینری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ سرمایہ کاری کے شعبے قرار دیا۔ انہوں نے افغان برآمدات کو علاقائی منڈیوں، خصوصاً چین تک پہنچانے اور ازبکستان کے تجارتی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس میں افغانستان، ازبکستان اور چین کے سرکاری و نجی شعبے کے نمائندے شریک تھے۔ اعلان میں کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری رقم یا حتمی معاہدے کی تفصیل شامل نہیں تھی؛ بات چیت سرمایہ کاری دعوت، علاقائی راہداریوں اور خام مال کی مقامی پراسیسنگ کے امکانات پر مرکوز رہی۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/afg-china-uzbek-investment-sectors-2026-09-24?lang=ur