2009 میں پنجاب کا گورنر راج اور 2026 میں پختونخوا: صدر زرداری کی دو مختلف آئینی آزمائشیں
2009 میں شہباز شریف کی حکومت ختم ہونے، سلمان تاثیر کو اختیارات ملنے اور پھر سیاسی مفاہمت سے بحران کے خاتمے کا 2026 کے واقعات سے تقابلی جائزہ۔
قلم کاروں کے تفصیلی کالم، تحقیق، تاریخ، آئینی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر؛ خبر سے واضح طور پر الگ۔
افغان سرحد سے متعلق پاکستانی الزامات، کابل کی تردید اور خیبر پختونخوا کے نئے انتظام میں داخلی سکیورٹی و خارجہ تعلقات کی حد بندی۔
2013 میں کوئٹہ کے ہزارہ شہریوں پر حملوں کے بعد گورنر راج کا فیصلہ، حکومتی تبدیلی اور اس کے بعد بھی سکیورٹی مسائل کیوں برقرار رہے؟
سیاسی اعلانات سے الگ عام شہری کے لیے عملی سوالات کیا ہیں، اور کون سی تبدیلیاں خود بخود نہیں ہوتیں؟ خدمات کی تسلسل پر وضاحتی جائزہ۔
صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا تک ماضی میں گورنر راج کی تاریخ کیا رہی اور آج کا بحران ان واقعات سے کس لحاظ سے مختلف ہے؟ تاریخی ریکارڈ کے ساتھ جائزہ۔
صدارتی اعلامیے کی قانونی بنیاد، آرٹیکل 232 و 234 کے فرق، ثبوت، پارلیمانی منظوری اور عدالتی حدود کے پانچ سوالات کا غیر جانب دار جائزہ۔
تحریک انصاف اور دیگر ناقدین منتخب حکومت کے اختیارات معطل کرنے کو وفاقی نظام اور سیاسی نمائندگی کے لیے خطرہ کیوں سمجھتے ہیں؟ اعتراضات اور ان کے جواب طلب پہلو۔
وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی میں صوبائی تعاون کی کمی کو جواز بنایا۔ دستیاب سکیورٹی اعداد و شمار، آئینی اختیار اور مؤثر حکمرانی کے معیار کی روشنی میں اس دلیل کا جائزہ۔
ستمبر 2026 کی پی آئی سی ایس ایس رپورٹ کے اعدادوشمار، صوبائی و قومی فرق اور سکیورٹی ڈیٹا سے سیاسی نتائج اخذ کرنے کی حدود پر تحقیقی جائزہ۔
آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی ابتدائی مدت، مشترکہ اجلاس میں منظوری اور مدت بڑھانے کی قانونی حد کیا ہے؟
گورنر راج نافذ ہونے کے بعد انتظامیہ، پولیس، صوبائی فیصلوں اور ہائی کورٹ کے متعلق گورنر کے اختیارات کہاں تک جا سکتے ہیں؟ آئینی دفعات کی روشنی میں وضاحت۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 دو الگ ہنگامی اختیارات دیتے ہیں۔ صوبائی حکومت، پارلیمان، اسمبلی اور عدالتوں پر ان کے اثرات کی آسان تشریح۔
گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کی آئینی حیثیت، قانون سازی اور منتخب نمائندوں کے کردار کے بارے میں پانچ بنیادی باتیں۔
وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سکیورٹی پالیسی، لانگ مارچ اور اختیارات پر تنازع ستمبر کے آخر سے کیسے بڑھا اور 11 اکتوبر کو صدارتی فیصلے تک کیسے پہنچا؟
اجمل کے کالم میں افغانستان پر پاکستانی فضائی حملوں اور شہری ہلاکتوں کے الزامات کا غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے تقابل کیا گیا ہے۔ یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
عثمان منصور اپنے کالم میں 2001 کے بعد پاکستان کی افغان پالیسی، طالبان سے تعلقات، سرحدی فضائی حملوں، شہری ہلاکتوں اور افغان مہاجرین کی بے دخلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کابل میں زیرِ زمین پانی کی سطح 25 سے 30 میٹر گرنے، 2030 کے مشروط خطرے اور کاپیسا سے پانی کی منتقلی کے مجوزہ منصوبے کے تناظر میں شہری ترجیحات اور قابلِ عمل حل پر خصوصی کالم۔
سوویت جنگ کی تلخ تاریخ سے 2025 کی روسی تسلیم، 2026 کے فوجی و تکنیکی معاہدے، تجارت اور ماسکو فارمیٹ تک—روس اور طالبان کے بدلتے تعلقات کے پیچھے سکیورٹی، جغرافیہ اور مفادات کی مکمل کہانی۔
واخان کی 121 کلومیٹر طویل شاہراہ کے افتتاح کو مصنف افغانستان کے لیے معاشی، تزویراتی اور علاقائی رابطہ کاری کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایک طنزیہ رائے جو اس مذہبی کردار پر سوال اٹھاتی ہے جو کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم زبان اختیار کرتا ہے۔
کابل ڈائری میں کور کمانڈر کانفرنس، سویلین نگرانی، وزارتِ دفاع کے کردار اور عسکری فیصلہ سازی کی شفافیت سے متعلق اٹھتے سوالات کا جائزہ۔
عثمان احمد کی رائے: دوحہ میں افغان اور ترک سفیروں کی ملاقات کابل–انقرہ روابط کے تسلسل کی علامت ہے۔ تاہم دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ ترک انٹیلی جنس چیف کے قندھار دورے سے متعلق متنازع دعویٰ سرکاری ISPR اکاؤنٹس سے شروع ہوا تھا۔
احمد حسین طوری کی ذاتی رائے پر مبنی مضمون، جس میں ریاستی پالیسیوں، بلوچ و پشتون محرومیوں، شورش اور مسلح مزاحمت سے متعلق ان کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے۔
افغانستان میں فضائی حملوں کے تناظر میں خودمختاری، شہری جانوں کی حرمت، اسلامی اصولوں اور بین الاقوامی قانون پر ابرار ابراہیم کی رائے۔
ابرار ابراہیم خطے میں سفارتی پیش رفت، پاکستان میں سیکیورٹی واقعات اور عسکری گروہوں کی سرگرمیوں کے درمیان مبینہ تعلقات پر سوال اٹھاتے ہیں۔