ادارتی نوٹ: یہ ایک رائے/تجزیاتی مضمون ہے۔ انٹیلی جنس اداروں، عسکری گروہوں اور مبینہ روابط سے متعلق دعوے مصنف کے تجزیے اور سوالات کی صورت میں پیش کیے گئے ہیں؛ مارگلہ نیوز نے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
جب بھی کابل کی راہداریوں میں امن کی روشنی پھیلنے لگتی ہے اور عالمی برادری افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر اور منظم کرنے کی طرف قدم بڑھاتی ہے، تو پاکستان کی سرحدوں کے اندر اچانک دھماکوں کی گونج کیوں سنائی دینے لگتی ہے؟ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسا تاثر اور عملی حکمت عملی ہے جو ہر بار اس وقت دہرائی جاتی ہے جب خطے میں معاشی اور اسٹریٹجک استحکام کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
امن کا امکان اور اچانک دھماکے
تاریخی پیٹرن صاف بتاتا ہے کہ جیسے ہی افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کا رویہ مثبت ہوتا ہے، چاہے وہ چین کی عالمی سیکیورٹی کانفرنس میں کابل کو شامل کرنا ہو، ترکی کے انٹیلی جنس چیف کی کابل میں اہم نشستیں ہوں، یا سعودی عرب کی جانب سے خطے میں بڑے معاشی منصوبوں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، ان تمام صورتوں میں پاکستان کا سیکیورٹی ماحول اچانک بگڑ جاتا ہے۔ پشاور اور کوہاٹ کی مساجد اور پولیس لائنز پر ہونے والے حملے عین انہی حساس سفارتی موڑ پر کرائے جاتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ پورا خطہ اب بھی ایک “ناقابلِ اعتبار اور غیر محفوظ زون” ہے۔
آئی ایس آئی کا “خواب” اور عسکری گروہوں کا کردار
اس پورے تانے بانے میں سب سے اہم اور سوالیہ پہلو وہ اندرونی جوڑ توڑ ہے جس میں انٹیلی جنس اداروں کا نام بار بار سامنے آتا ہے:
ٹی ٹی پی کے مقابلے میں نیا محاذ: تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اثر و رسوخ کو توڑنے اور اس کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ایسے اتحاد کی تشکیل طویل عرصے سے سیکیورٹی ایجنسیوں، بالخصوص آئی ایس آئی، کا ایک مبینہ “خواب” سمجھی جاتی تھی، جو مرکزی قیادت کے بجائے ان کی ترجیحات کے مطابق چلے۔
خاموش گروپس کی بیداری: عالمی جہادی تنظیموں سے مبینہ وابستگی ظاہر کرنے والا ایک ایسا گروپ، جو سالوں سے بالکل غیر فعال اور خاموش پڑا تھا، اچانک جاگ کر اس خواب کو تعبیر دیتا ہے۔ اس نے چھوٹے چھوٹے تین گروہوں کو جمع کر کے اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کی بنیاد رکھی۔
میڈیا ونگ اور ہمکاری: القاعدہ برصغیر کے نام سے مشہور اس دھڑے نے نہ صرف اس نئے اتحاد کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ اس کے میڈیا ونگ کو بھی مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
مبینہ آمیزش اور پراکسیز کا استعمال
جماعت الاحرار، آئی ایم پی اور برصغیر جیسے متنازع اور دھڑے بندی کا شکار گروہوں کی سرگرمیوں میں آئی ایس آئی یا دیگر ڈارک نیٹ ورکس کی مبینہ ہمکاری اور آمیزش کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہمیشہ ایسے حملوں سے انکار کرتی ہے، لیکن یہ چھوٹے اور متنازع گروپس انہی اہم ترین سفارتی مواقع پر سامنے آ کر پشاور اور کوہاٹ کے پولیس زونز پر دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں۔ یہ پورا انتظام کس نے اور کس کے لیے ڈیزائن کیا ہے؟ اس کے جواب درج ذیل مقاصد میں چھپے معلوم ہوتے ہیں:
- افغانستان کو عالمی برادری کے سامنے غیر محفوظ اور دہشت گردی کا مرکز بنا کر پیش کیا جا سکے۔
- کابل حکومت کے ساتھ عالمی ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔
- اور ضرورت پڑنے پر ذمہ داری سے قابلِ اعتبار انکار کی گنجائش کو برقرار رکھا جا سکے۔
حاصلِ کلام
پشاور سے لے کر کوہاٹ تک مساجد میں بہنے والا خون محض کسی عسکری گروہ کا نعرہ نہیں، بلکہ انٹیلی جنس گیمز اور جیوپولیٹیکل مفادات کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ جب ایک سوئی ہوئی تنظیم اچانک بیدار ہو کر نیا اتحاد بناتی ہے اور ٹھیک انہی دنوں میں دھماکے ہوتے ہیں جب کابل کے ساتھ دنیا کے رشتے استوار ہو رہے ہوتے ہیں، تو یہ سوال خود بخود سامنے آتا ہے کہ ان ڈوریوں کے پیچھے کون سا ہاتھ موجود ہے اور کون کسے، کس کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
