لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اس ہدایت نامے کی معطلی برقرار رکھی ہے جس میں پاکستان کے طبی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کے لیے کہا گیا تھا۔
ڈان کے مطابق 13 افغان طلبہ نے لاہور کی مختلف طبی جامعات اور کالجوں سے متعلق درخواستیں دائر کی ہیں۔ عدالت نے پہلے 11 ستمبر کو ہدایت نامے پر عمل روک دیا تھا، جبکہ تازہ سماعت میں PMDC اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وکلا نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا، جس کے بعد معطلی برقرار رہی۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی افغان طلبہ کی ممکنہ واپسی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق کم از کم 100 افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں 20 سے 40 خواتین بھی شامل ہیں۔
خواتین طلبہ کے لیے معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور طبی تربیت پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان سے ایسے افراد کے معاملات انفرادی طور پر جانچنے اور انہیں ایسے حالات میں واپس نہ بھیجنے پر زور دیا ہے جہاں انہیں سنگین نقصان کا خطرہ ہو۔
مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے، اس لیے طلبہ کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہوا۔
