افغانستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں نصب سکیورٹی کیمروں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ نگرانی کے نظام کو مزید جدید اور اسمارٹ بنانے پر کام جاری ہے۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع کے مطابق اعلیٰ معیار کے سکیورٹی کیمرے شاہراہوں، ڈیموں، بین الاقوامی ہوائی اڈوں، بازاروں اور خصوصاً کابل شہر میں نصب کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے اور ضرورت کے مطابق مزید کیمرے بھی شامل کیے جائیں گے۔
قانع نے کہا کہ یہ کیمرے سکیورٹی برقرار رکھنے، جرائم پیشہ افراد کی شناخت اور مجرمانہ واقعات کی پیروی میں مدد دیتے ہیں۔ TOLOnews کے مطابق بڑے پیمانے پر کیمروں کی تنصیب 2022–23 میں کابل سے شروع ہوئی اور بعد میں دوسرے صوبوں تک پھیلائی گئی۔
وزارتِ داخلہ نے موجودہ اعلان میں کیمروں یا نگرانی کے سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنیوں یا ممالک کی تفصیل جاری نہیں کی۔ Independent Persian نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ایک لاکھ سے زائد کے مجموعی عدد میں کتنے سرکاری اور کتنے نجی کیمرے شامل ہیں، یا ان میں سے کتنے ایک مرکزی سرکاری نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔
فیشل ریکگنیشن کے حوالے سے وزارتِ داخلہ اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ کابل اور بعض شاہراہوں پر نصب کچھ کیمرے چہرہ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فروری 2025 میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بھی کابل کے نگرانی نظام میں چہرہ شناخت کے ذریعے افراد کو ٹریک کرنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔
2023 میں افغان حکام اور چینی کمپنی Huawei کے درمیان ممکنہ تعاون سے متعلق بات چیت کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، تاہم بعد کی رپورٹنگ میں Huawei نے اس منصوبے میں شمولیت کی تردید کی تھی۔ موجودہ ایک لاکھ سے زائد کیمروں کے اعلان میں وزارتِ داخلہ نے Huawei یا کسی دوسری غیرملکی کمپنی کو موجودہ سپلائر یا پارٹنر قرار نہیں دیا۔
وزارت کے مطابق اسمارٹ نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم نظام کی مجموعی کارکردگی، تمام کیمروں کی فعالی اور ان کے باہمی ربط کی آزادانہ تصدیق محدود ہے، جبکہ بعض شہروں میں بجلی کی غیرمستحکم فراہمی کو بھی مؤثر نگرانی کے لیے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
ماخذ: TOLOnews، 14 ستمبر 2026؛ Independent Persian، 16 ستمبر 2026؛ سابقہ TOLOnews/BBC رپورٹنگ برائے فیشل ریکگنیشن پس منظر۔
