مواد پر جائیں
خبر

افغان وزارت خارجہ کی کوہاٹ مسجد حملے کی مذمت، پاکستان نے کابل سے عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا

افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں مسجد اور پولیس کمپاؤنڈ پر ہونے والے مہلک حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے جواب میں کابل سے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

ای میل
ادارتی گرافک: افغان وزارت خارجہ کی کوہاٹ مسجد حملے کی مذمت، پاکستان نے کابل سے عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا
Margalla News editorial graphic

افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد اور پولیس کمپاؤنڈ پر ہونے والے مہلک حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات پر حملے ناقابلِ جواز اور قابلِ مذمت ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر افغانستان میں مبینہ عسکریت پسند پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ نے 19 ستمبر کو جاری بیان میں کوہاٹ حملے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزارت کے ترجمان عبدالقہار بلخی سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سرکاری افغان خبر رساں ادارے باختر نیوز ایجنسی نے بھی وزارتِ خارجہ کا یہی مؤقف رپورٹ کیا۔

کوہاٹ میں حملہ 18 ستمبر کو جمعہ کی نماز کے وقت پولیس لائنز کے اندر واقع مسجد کے قریب ہوا۔ روئٹرز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بارود سے بھری گاڑی کمپاؤنڈ کی بیرونی دیوار سے ٹکرائی، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ مختلف اوقات میں سرکاری اور طبی ذرائع سے ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد بدلتے رہے، اس لیے مارگلہ نیوز کسی ایک ابتدائی تعداد کو حتمی قرار نہیں دے رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی بعد کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے طویل کارروائی کے بعد کمپاؤنڈ میں موجود حملہ آوروں کے خلاف آپریشن مکمل کیا۔

حملے کی ذمہ داری اور حملہ آوروں کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں بھی مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ روئٹرز کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کسی گروہ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی اور تحریک طالبان پاکستان نے ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ بعض بعد کی رپورٹس میں ایک مسلح دھڑے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا ذکر کیا گیا۔ ان متضاد اطلاعات کے باعث مارگلہ نیوز ذمہ داری کے معاملے کو حتمی طور پر کسی ایک گروہ سے منسوب نہیں کر رہا۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے 19 ستمبر کو ایک سخت بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کے روابط افغانستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ پاکستانی حکومت نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات کابل کے سامنے رکھتی آئی ہے۔ اسلام آباد نے افغان طالبان حکومت سے مبینہ پناہ گاہوں، بھرتی اور تربیتی نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتبار، قابلِ تصدیق اور مسلسل اقدامات کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی وزارت نے افغان وزارتِ خارجہ کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ صرف مذمت کافی نہیں اور اسے عملی اقدامات کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ پاکستانی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ افغانستان میں حملہ آوروں کی موجودگی یا سرکاری سرپرستی کے پاکستانی الزامات کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

افغان طالبان حکومت مسلسل اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیتی ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر پاکستان کو افغانستان کے اندر سے ہونے والی کسی مخصوص سرگرمی سے نقصان پہنچنے کے شواہد ہیں تو اسے کابل کے ساتھ معلومات شیئر کرنی چاہییں تاکہ دونوں جانب تعاون کیا جا سکے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ افغان حکام ملک کی سرزمین اور سرحدوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف ایسی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔

یہ تازہ تبادلہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی تنازع کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اسلام آباد کا بنیادی مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عناصر کو افغانستان میں جگہ میسر ہے، جبکہ کابل اس الزام کو رد کرتے ہوئے پاکستان کے داخلی سکیورٹی مسائل کو افغانستان سے منسوب کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ اس اختلاف نے سفارتی تعلقات، سرحدی صورتحال اور دوطرفہ تجارت پر بھی وقتاً فوقتاً دباؤ ڈالا ہے۔

کوہاٹ حملے پر کابل کی مذمت اس لحاظ سے اہم ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان سخت بیانات کے باوجود رابطے اور سفارتی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم پاکستان کے تازہ سرکاری بیان سے واضح ہے کہ اسلام آباد محض مذمتی بیانات کے بجائے ایسے اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے جنہیں وہ عملی اور قابلِ تصدیق سمجھتا ہو۔ دوسری طرف افغان حکام معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کی بات کر رہے ہیں اور پاکستان کے الزامات کو ثابت شدہ حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔

مارگلہ نیوز نے افغان وزارتِ خارجہ اور باختر نیوز ایجنسی کو کابل کے مؤقف کے بنیادی ذرائع، جبکہ پاکستان کی سرکاری ریڈیو سروس پر شائع وزارتِ اطلاعات کے بیان کو اسلام آباد کے مؤقف کے بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ حملے کی تفصیلات کے لیے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹنگ سے سیاق لیا گیا ہے۔ دونوں حکومتوں کے ایک دوسرے سے متعلق متنازع سکیورٹی دعووں کو دعووں ہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-afghanistan-condemns-kohat-mosque-attack-2026-09-19?lang=ur

ماخذ: https://mfa.gov.af/en/51125/

اگلا قدم

پاک افغان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔