مواد پر جائیں
خبر

افغانستان، ترکمانستان کا 500kV بجلی منصوبہ تیز کرنے پر اتفاق؛ TAP روڈمیپ بھی زیرِ غور

افغانستان کی سرکاری بجلی کمپنی د افغانستان برشنا شرکت کے مطابق افغان اور ترکمان حکام نے ترکمانستان سے افغانستان آنے والی 500 کلو وولٹ بجلی ترسیلی لائن کی تکمیل تیز کرنے، ہرات کے نورالجہاد سب اسٹیشن کا باقی کام مکمل کرنے اور TAP علاقائی بجلی منصوبے کو آگے بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

ای میل
ادارتی گرافک: افغانستان، ترکمانستان کا 500kV بجلی منصوبہ تیز کرنے پر اتفاق؛ TAP روڈمیپ بھی زیرِ غور
Margalla News editorial graphic

افغانستان اور ترکمانستان کے حکام نے دونوں ممالک کے درمیان 500 کلو وولٹ بجلی کی ترسیلی لائن پر کام تیز کرنے، ہرات میں نورالجہاد سب اسٹیشن کا باقی کام مکمل کرنے اور ترکمانستان-افغانستان-پاکستان (TAP) بجلی منصوبے کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔ افغان حکام کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ترکمانستان سے افغانستان کو بجلی کی فراہمی کی صلاحیت بڑھانا اور علاقائی توانائی رابطوں کو وسعت دینا ہے۔

افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی باختر نیوز ایجنسی نے د افغانستان برشنا شرکت (DABS) کے پریس دفتر کے حوالے سے بتایا کہ ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملا عبد الحق حمکار نے ترکمانستان کے بین الاقوامی توانائی منصوبوں کے سربراہ مراد آرتیکوف اور ان کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں 500kV بجلی ترسیلی منصوبے کی موجودہ پیش رفت اور اسے جلد مکمل کرنے کے لیے درکار اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

باختر کے مطابق دونوں فریقوں نے منصوبے پر مسلسل رابطہ اور تکنیکی تعاون برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ترکمان وفد نے اب تک ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے منصوبے کی جلد تکمیل کی خواہش ظاہر کی۔ افغان سرکاری رپورٹ کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد افغانستان کی ترکمانستان سے بجلی درآمد کرنے کی گنجائش میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم رپورٹ میں منصوبے کی حتمی تکمیل کی نئی تاریخ، مجموعی لاگت یا اضافی درآمدی صلاحیت کے حتمی اعداد نہیں دیے گئے۔

ملاقات میں صرف مرکزی 500kV لائن ہی زیر بحث نہیں آئی۔ دونوں جانب نے ہرات کے نورالجہاد بجلی سب اسٹیشن میں باقی رہ جانے والے کام، بادغیس کے بالامرغاب ضلع تک بجلی پہنچانے اور TAP منصوبے کے عملی نفاذ پر بھی گفتگو کی۔ باختر کے مطابق ترکمان وفد نے نورالجہاد سب اسٹیشن کا باقی کام مکمل کرنے، بالامرغاب کو بجلی کی فراہمی میں مدد دینے اور متعلقہ ترقیاتی منصوبوں میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

آزاد افغان خبر رساں ادارے پژواک نے بھی DABS کے بیان کی بنیاد پر اسی ملاقات اور زیر بحث منصوبوں کی تصدیق کی ہے۔ پژواک کے مطابق ترکمان وفد نے 500kV لائن کی جلد تکمیل کو زیادہ بجلی افغانستان منتقل کرنے کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ TAP منصوبے کے ابتدائی روڈمیپ کی منظوری مستقبل قریب میں متوقع بتائی گئی۔ یہ روڈمیپ ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے مکمل شدہ معاہدہ یا طے شدہ تعمیراتی شیڈول نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

TAP یعنی ترکمانستان-افغانستان-پاکستان بجلی منصوبہ وسطی ایشیا کی توانائی کو افغانستان کے راستے جنوبی ایشیا تک پہنچانے کے وسیع تر تصور کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کی مختلف شکلوں اور متعلقہ ترسیلی ڈھانچے پر کئی برس سے کام اور مذاکرات جاری ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبہ جاتی ریکارڈ میں بھی ترکمانستان سے افغانستان تک 500kV نظام اور افغانستان کے اندر شمال سے جنوب بجلی کی ترسیل بڑھانے کو قومی توانائی نظام کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

افغانستان اپنی بجلی کی ضروریات کا بڑا حصہ طویل عرصے سے ہمسایہ ممالک سے درآمد کرتا آیا ہے، اس لیے نئی یا زیادہ گنجائش والی ترسیلی لائنیں کابل کے لیے محض دوطرفہ تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ بجلی کی دستیابی، صنعتی سرگرمی اور داخلی گرڈ کی مضبوطی سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ 500kV بنیادی ڈھانچے کا مقصد زیادہ مقدار میں بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور مختلف علاقوں کو بڑے قومی گرڈ سے بہتر طور پر جوڑنا ہے۔

حالیہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کابل علاقائی رابطہ کاری کو اپنی اقتصادی پالیسی کے اہم حصے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ترکمانستان کے ساتھ بجلی کے علاوہ گیس، ریلوے اور دیگر رابطہ منصوبوں پر بھی تعاون جاری ہے۔ اگر 500kV لائن، نورالجہاد سب اسٹیشن اور TAP کے متعلق موجودہ وعدے عملی مراحل میں تیزی سے آگے بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات صرف افغانستان کی داخلی بجلی فراہمی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کے ساتھ مستقبل کی علاقائی بجلی تجارت کے امکانات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

منصوبے کی تاریخی اہمیت بھی قابل ذکر ہے۔ افغانستان طویل عرصے سے وسطی ایشیا کے بجلی پیدا کرنے والے ممالک اور جنوبی ایشیا کی بڑی منڈیوں کے درمیان زمینی پل بننے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ TAP جیسے منصوبے اسی تصور سے جڑے ہیں۔ ان کی کامیابی کے لیے سرحد پار تکنیکی معیار، مالی بندوبست، سب اسٹیشنز، ترسیلی لائنوں اور طویل مدتی خرید و فروخت کے انتظامات ضروری ہوتے ہیں، اس لیے سیاسی اعلان کے بعد بھی عملی تکمیل ایک مرحلہ وار عمل رہتی ہے۔

ہرات اور بادغیس سے متعلق گفتگو اس منصوبے کے مقامی اثرات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ نورالجہاد سب اسٹیشن کے باقی کام اور بالامرغاب تک بجلی پہنچانے کی تجاویز مکمل ہونے کی صورت میں مغربی افغانستان میں گھریلو صارفین کے ساتھ کاروبار، چھوٹی صنعت اور سرکاری خدمات کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ البتہ موجودہ بیانات میں مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد یا بجلی کی متوقع مقدار کے نئے حتمی اعداد جاری نہیں کیے گئے۔

اس مرحلے پر اہم تفصیلات ابھی باقی ہیں۔ افغان سرکاری رپورٹ اور پژواک کی رپورٹ میں نئی حتمی تکمیل تاریخ، مالی بندوبست، معاہداتی ذمہ داریوں اور TAP کے مکمل تعمیراتی شیڈول کی تفصیل موجود نہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو منصوبوں کی تکمیل کے بجائے اعلیٰ سطحی عملی و تکنیکی رابطے میں پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔ مارگلا نیوز منصوبے سے متعلق آئندہ سرکاری معاہدوں، روڈمیپ کی منظوری اور تعمیراتی پیش رفت کو الگ الگ اپڈیٹس میں مانیٹر کرے گا۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-afghanistan-turkmenistan-500kv-power-tap-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://www.bakhtarnews.af/en/Afghanistan-Turkmenistan-Move-to-Speed-Up-500kV-Power-Transmission-Project

اگلا قدم

افغانستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔