امریکی چِپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) نے پیر 21 ستمبر کو پہلی مرتبہ ایک ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو عبور کر لی، جس سے وہ اس سنگِ میل تک پہنچنے والی بڑی امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے محدود گروپ میں شامل ہو گئی۔
رائٹرز کے مطابق حصص آخری دستیاب اپ ڈیٹ میں تقریباً 9.6 فیصد بڑھ کر 613.50 ڈالر پر تھے، جبکہ دن کے دوران قیمت 613.92 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچی۔ یہ اعداد انٹرا ڈے مارکیٹ حرکت کی عکاسی کرتے ہیں اور مارکیٹ کیپ حصص کی قیمت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔
رائٹرز نے اس تیزی کو سرمایہ کاروں کی ان توقعات سے جوڑا کہ AMD مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتی ہے۔ کمپنی صرف گرافکس پروسیسرز تک محدود رہنے کے بجائے پروسیسرز، نیٹ ورکنگ اور دوسرے ہارڈویئر کو یکجا کرنے والے مکمل AI سسٹمز پر بھی توجہ بڑھا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق AI inference سرورز میں استعمال ہونے والے CPUs کی بڑھتی طلب نے بھی AMD کے کاروباری امکانات کے بارے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کیا ہے، جبکہ کمپنی Nvidia کے مقابلے میں AI ایکسلریٹر مارکیٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ سنگِ میل مارکیٹ کی ایک تیز رفتار حرکت کے دوران حاصل ہوا اور ایک ٹریلین ڈالر کی قدر مستقل سطح نہیں سمجھی جانی چاہیے، کیونکہ حصص کی قیمت بدلنے کے ساتھ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو بھی فوری طور پر اوپر یا نیچے جا سکتی ہے۔


