آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزی نے کہا ہے کہ Apple کے ٹم کک نے بچوں کی آن لائن حفاظت اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق آسٹریلیا کے ضوابط کو عالمی سطح پر نمایاں اقدامات قرار دیا ہے۔ رائٹرز نے 20 ستمبر کو البانیزی کے بیان کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
البانیزی نے امریکا میں Apple Park کے دورے کے دوران کک سے ملاقات کی۔ آسٹریلوی وزیراعظم کے مطابق گفتگو میں آن لائن سیفٹی، بچوں کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی پالیسی کے اہم موضوعات شامل تھے۔
آسٹریلیا نے حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ ان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور صارفین کو اپنے فیڈ میں دکھائی دینے والے مواد پر زیادہ اختیار دینے کی کوششیں شامل ہیں۔
یہ پالیسیاں عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں کیونکہ حکومتیں اس سوال سے نمٹ رہی ہیں کہ نوجوان صارفین کو نقصان دہ مواد، الگورتھمک اثرات اور آن لائن استحصال سے کس طرح محفوظ رکھا جائے۔
Apple اپنے آلات میں بچوں اور خاندانوں کے لیے parental controls، communication safety اور دیگر حفاظتی خصوصیات فراہم کرتا ہے۔ تاہم پلیٹ فارم ریگولیشن اور ڈیوائس سطح کے حفاظتی ٹولز الگ پالیسی اور تکنیکی دائرے رکھتے ہیں۔
البانیزی نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی AI ٹیکنالوجی پر انسانی اختیار برقرار رکھنے کے لیے عالمی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ مختلف ممالک AI ضوابط کے معاملے میں الگ رفتار اور مختلف ماڈلز اختیار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عمر کی پابندیوں کے ناقدین ان کی تکنیکی نفاذ پذیری، رازداری اور نوجوانوں کی معلومات تک رسائی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ پلیٹ فارم ڈیزائن بچوں کے لیے مناسب حفاظتی معیار فراہم نہیں کرتا۔
آسٹریلیا کا تجربہ اس لیے اہم ہے کہ دیگر حکومتیں بھی عمر کی تصدیق اور بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق اسی نوعیت کے قوانین پر غور کر رہی ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کک کی تعریف کو البانیزی سے منسوب کیا گیا ہے۔ مارگلہ نیوز اسے Apple کی جانب سے ہر آسٹریلوی پالیسی کی مکمل رسمی توثیق کے طور پر نہیں پیش کر رہا۔
آن لائن سیفٹی، عمر کی تصدیق اور AI governance آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان اہم پالیسی موضوعات رہنے کا امکان رکھتے ہیں۔

