بدخشان کے محکمہ تحفظ ماحولیات کا کہنا ہے کہ واخان میں قدرتی گلیشیئرز پر کیے گئے حالیہ مطالعات میں ان کے غیر معمولی رفتار سے سکڑنے کے آثار سامنے آئے ہیں، جس سے مستقبل کے آبی وسائل کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
محکمے کے قدرتی ورثے کے ڈائریکٹر ضیاء الحق کامران نے TOLOnews کو بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان جاری رہا تو پانی کے ذخائر اور دریائے آمو کے بہاؤ پر طویل مدتی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق تیز پگھلاؤ مختصر مدت میں دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں پانی کی دستیابی، زراعت، خشک سالی اور مقامی آبادی کے روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بدخشان کے ماحولیاتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں تقریباً چار ہزار قدرتی گلیشیئرز ہیں اور ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ واخان میں واقع ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبائی حکام سے منسوب ہیں اور Margalla News نے انہیں آزادانہ طور پر شمار نہیں کیا۔
