افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے بلخ میں امام شقیق بلخی صنعتی ٹاؤن شپ کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق منصوبہ حیرتان کے قریب تقریباً 22 ہزار جریب اراضی پر تیار کیا جائے گا اور اس کا مقصد صنعتی زمین، مقامی پیداوار اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
اس منصوبے سے متعلق نئی تفصیلات میں برادر نے کہا کہ حکومت افغانستان کو بتدریج پیداوار پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، نوجوان افرادی قوت کو صنعت سے جوڑنا اور مقامی مصنوعات کو علاقائی و عالمی منڈیوں تک پہنچانا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ حکومتی پالیسی اور متوقع فوائد سے متعلق سرکاری مؤقف ہے۔
برادر کے دفتر کے بیان کے مطابق صنعتی پارک سے صنعتی زمین کی کمی کم کرنے، سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا کرنے، درآمدات پر انحصار گھٹانے اور ہزاروں روزگار پیدا کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے حیرتان کو صرف درآمدی راستہ رکھنے کے بجائے افغان تیار شدہ مصنوعات کی برآمدی راہداری کے طور پر بھی ترقی دینے پر زور دیا۔
پژواک نے منصوبے کا رقبہ 11 ہزار ایکڑ بتایا، جبکہ پہلے افغان میڈیا کی رپورٹنگ میں اسے تقریباً 22 ہزار جریب کہا گیا تھا۔ دونوں پیمائشیں قریباً ایک ہی زمینی رقبے کی مختلف اکائیوں میں نمائندگی کرتی ہیں۔
