Bangladesh کی garment industry کو gas اور power shortages کے باعث production میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ رائٹرز نے 22 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ Middle East سے جڑے energy crisis نے ملک کے manufacturing sector پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
134 knitwear factories کے ایک حالیہ survey میں 78 فیصد نے بتایا کہ late August کے بعد energy shortages کے باعث انہیں production جزوی طور پر روکنی پڑی، جبکہ 55 فیصد نے کہا کہ buyers نے orders cancel یا reduce کیے۔ Factories نے shipment delays اور discounts دینے کے دباؤ کی بھی اطلاع دی۔
Garment sector Bangladesh کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے؛ رائٹرز کے مطابق یہ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ export earnings فراہم کرتا ہے، تقریباً چار ملین افراد کو روزگار دیتا ہے اور GDP میں لگ بھگ 10 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
کچھ manufacturers نے backup energy پر نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ Reuters نے 4A Yarn Dyeing کی مثال دی، جو Walmart، Gap اور Next سمیت مختلف brands کو supply کرتی ہے اور اپنی تقریباً 40 فیصد electricity solar سے حاصل کرتی ہے، جبکہ باقی ضروریات کے لیے اپنی gas اور diesel generation استعمال کرتی ہے۔
کمپنی کے مطابق مہنگے diesel نے اس کے ماہانہ fuel bill میں نمایاں اضافہ کیا اور production costs تقریباً 2 سے 3 فیصد بڑھا دی ہیں۔ Bangladesh نے 21 ستمبر کو fuel prices میں بھی 17.4 فیصد تک اضافہ کیا، جس سے manufacturers پر مزید دباؤ پڑا۔
Industry executives نے Reuters سے کہا کہ مسلسل gas shortages اور power cuts Bangladesh کی competitiveness کو Vietnam اور India جیسے regional rivals کے مقابلے میں کمزور کر سکتے ہیں۔
Long-term اثر energy availability، fuel prices، buyer confidence اور manufacturers کی alternative power sources اختیار کرنے کی رفتار پر منحصر ہوگا۔


