چین نے اپنے دو انتہائی سینئر فوجی رہنماؤں ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور فوجی سروس سے نکال دیا ہے۔ چین کی وزارتِ دفاع کی ویب سائٹ پر 21 ستمبر کو شائع ہونے والے سرکاری اعلان میں اس فیصلے کی تصدیق کی گئی۔
ژانگ یوژیا Central Military Commission کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں، جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ ادارہ ہے، جبکہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے Politburo کے رکن بھی تھے۔ لیو ژینلی CMC کے رکن اور Joint Staff Department کے چیف آف اسٹاف تھے۔
سرکاری اعلان کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے اجلاس نے دونوں افسران کے معاملات سے متعلق Central Military Commission کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد کارروائی کی منظوری دی۔ دونوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان جنوری میں کیا گیا تھا۔
رائٹرز نے سرکاری چینی دستاویزات اور state media کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ چینی قیادت نے دونوں پر political discipline اور party rules کی سنگین خلاف ورزی، cliques اور factions بنانے، پارٹی سے بے وفائی اور غیر دیانت داری، بدعنوانی کے ذریعے ذاتی فائدہ حاصل کرنے، فرائض میں کوتاہی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات لگائے ہیں۔
یہ الزامات چینی حکام کے ہیں۔ پارٹی اور فوج سے اخراج اور مقدمات کو فوجی پراسیکیوٹرز کے سپرد کیے جانے کو ہر الزام کے عدالتی طور پر ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
رائٹرز کے مطابق مشتبہ فوجداری معاملات کو چینی قانون کے تحت جانچ اور prosecution کے لیے military prosecutors کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ چین کی اعلیٰ فوجی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ ژانگ Central Military Commission میں صدر شی جن پنگ کے بعد اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک پر تھے، جبکہ لیو فوجی command structure میں مرکزی operational ذمہ داری رکھتے تھے۔


