چین میں regulators نے humanoid-robot کمپنیوں کی stock-market listings پر scrutiny بڑھا دی ہے۔ رائٹرز نے 21 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ حکام بلند valuations، state-backed projects سے حاصل ہونے والی revenue اور حقیقی commercial demand کے درمیان تعلق کا زیادہ باریک جائزہ لے رہے ہیں۔
معاملے سے واقف افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ regulators نے بعض IPOs کو سست کرنے کے لیے غیر رسمی “window guidance” استعمال کی ہے۔ ایک source نے کہا کہ humanoid listings فی الحال عملی طور پر frozen ہیں، جبکہ دوسرے نے واضح کیا کہ کوئی باقاعدہ blanket ban موجود نہیں اور اسے sector-specific slowdown سمجھا جانا چاہیے۔
Unitree Robotics کی volatile stock-market debut کے بعد scrutiny مزید سخت ہوئی۔ کمپنی کے shares listing کے بعد پانچ گنا سے زیادہ بڑھے تھے لیکن peak سے نمایاں طور پر نیچے آ چکے ہیں۔
چین humanoid robotics کو قومی technology priority سمجھتا ہے، اس لیے یہ اقدام sector سے سرکاری حمایت ختم ہونے کی علامت نہیں۔ توجہ اب factory deployment، recurring demand، commercial viability اور revenue quality پر زیادہ ہے۔
China Securities Regulatory Commission نے Reuters کی comment request کا فوری جواب نہیں دیا۔
اس لیے موجودہ صورتحال کو formal prohibition کے بجائے tighter informal regulatory scrutiny کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔


