چین نے ستمبر میں اپنی بنیادی قرض شرحیں مسلسل سولہویں ماہ بغیر تبدیلی کے برقرار رکھی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایک سالہ لون پرائم ریٹ، جسے LPR کہا جاتا ہے، 3.00 فیصد پر برقرار رہا جبکہ پانچ سالہ لون پرائم ریٹ 3.50 فیصد پر قائم رکھا گیا۔ مالیاتی منڈی میں اس فیصلے کی پہلے ہی وسیع توقع موجود تھی اور رائٹرز کے سروے میں شامل تمام 21 مارکیٹ شرکاء نے شرحیں تبدیل نہ ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔
ایک سالہ LPR چین میں کاروباری اور گھریلو قرضوں کی بڑی تعداد کے لیے بنیادی حوالہ شرح کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پانچ سالہ شرح طویل مدت کی فنانسنگ اور خاص طور پر رہن یا ہاؤسنگ لون کی قیمت گذاری پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دونوں شرحوں کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ چینی پالیسی ساز اس وقت فوری اور وسیع شرح کٹوتی کے بجائے زیادہ محتاط مالیاتی حکمت عملی پر چل رہے ہیں۔
چین کی مرکزی بینک پالیسی کے سامنے کئی متضاد دباؤ موجود ہیں۔ ایک طرف ملکی معیشت کے بعض حصوں، خصوصاً جائیداد کے شعبے اور قرض کی طلب، میں کمزوری دیکھی گئی ہے۔ دوسری طرف بہت زیادہ شرح کٹوتی سے چینی کرنسی یوآن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت جب امریکہ میں شرح سود نسبتاً بلند ہے اور امریکی و چینی سرکاری بانڈز کی پیداوار کے درمیان فرق وسیع ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی حالیہ پالیسی اور بلند شرحیں بھی چین کے لیے ایک بیرونی رکاوٹ ہیں۔ اگر چین شرح سود مزید کم کرتا ہے اور امریکہ میں شرحیں بلند رہتی ہیں تو دونوں ممالک کے مالی اثاثوں کے منافع میں فرق سرمایہ کے بہاؤ اور کرنسی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم چین کی مرکزی بینک کے لیے اصل فیصلہ کن عنصر ملکی ترقی، افراط زر، روزگار اور مالیاتی نظام کا استحکام رہتا ہے۔
چینی بینکوں کے منافع پر بھی توجہ ہے۔ قرض شرحیں کم کرنے سے کاروباروں اور گھرانوں کے لیے فنانسنگ سستی ہو سکتی ہے، لیکن اگر بینکوں کی جمع شدہ رقوم کی لاگت اسی رفتار سے کم نہ ہو تو ان کے منافع کا مارجن مزید سکڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پالیسی ساز شرح سود میں بڑے اور بار بار کٹوتیوں سے گریز کر سکتے ہیں۔
چین کی معیشت میں جائیداد کا شعبہ گزشتہ برسوں میں ایک اہم کمزور کڑی رہا ہے۔ تعمیرات، مقامی حکومتوں کے مالی دباؤ اور قرض کی سست طلب نے بینکنگ نظام اور سرمایہ کاری پر اثر ڈالا ہے۔ اس کے باوجود اگر افراط زر منفی سطح سے نکل کر معتدل مثبت سطح کی طرف جاتا ہے تو مرکزی بینک کے لیے فوری بڑے stimulus کی ضرورت نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔
چین کا یہ فیصلہ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے بھی بالواسطہ اہمیت رکھتا ہے۔ چین ان ممالک اور خطے کی بہت سی معیشتوں کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چینی طلب میں کمی یا اضافہ خام مال، معدنیات، توانائی، مشینری، صنعتی درآمدات اور علاقائی انفراسٹرکچر منصوبوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح چین میں مالیاتی حالات سرمایہ کاری کی رفتار اور بڑے منصوبوں کے لیے دستیاب سرمائے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
شرحوں کا برقرار رہنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ 2026 کے باقی حصے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اگر چین میں ملکی طلب نمایاں طور پر کمزور ہوتی ہے، جائیداد کے شعبے میں نیا دباؤ آتا ہے یا عالمی مالیاتی حالات تبدیل ہوتے ہیں تو پیپلز بینک آف چائنا دوسرے آلات استعمال کر سکتا ہے۔ ان میں بینکوں کے reserve requirement میں تبدیلی، مخصوص شعبوں کے لیے سستی فنانسنگ، لیکویڈیٹی آپریشن یا بعد میں LPR میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ کے لیے فوری پیغام استحکام کا ہے۔ قرض کی بنیادی قیمت وہیں برقرار ہے جہاں گزشتہ کئی ماہ سے موجود تھی، اور پالیسی ساز ترقی کو سہارا دینے اور مالیاتی خطرات محدود رکھنے کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں چین فوری بڑے stimulus کے بجائے ہدفی اقدامات کو ترجیح دے سکتا ہے۔
مارگلہ نیوز چین کی آئندہ مالیاتی پالیسی، پیپلز بینک آف چائنا کے اقدامات اور LPR میں کسی تبدیلی کو فالو کرے گا۔ خاص طور پر اگر چینی نمو، پراپرٹی مارکیٹ یا امریکی شرح سود میں نئی تبدیلی آتی ہے تو ایشیائی منڈیوں اور خطے کی تجارت پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔

