ایران کے وزیرِ توانائی عباس علی آبادی نے کہا ہے کہ تہران افغانستان کو 2,000 میگاواٹ تک بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات افغان سرکاری کمپنیوں کے نگران ادارے کے سربراہ احمد جان بلال کے ساتھ ملاقات میں سامنے آئی، جس میں توانائی، پینے کے صاف پانی اور گندے پانی کی صفائی کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔
پژواک کے مطابق علی آبادی نے افغان تکنیکی عملے کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ افغان جانب نے توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور تکنیکی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
افغانستان اپنی بجلی کی ضروریات کا بڑا حصہ پڑوسی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ایران بھی اس کے موجودہ سپلائرز میں شامل ہے۔ فروری 2026 میں افغانستان کی بجلی کمپنی برشنا نے ایران سے بجلی خریدنے کے معاہدے میں توسیع کی تھی۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ 2,000 میگاواٹ کی ممکنہ فراہمی کے لیے قیمت، ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر، مرحلہ وار شیڈول یا کسی نئے تجارتی معاہدے کی تفصیلات کیا ہوں گی۔ موجودہ اعلان کو ایران کی آمادگی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مکمل فراہمی کے حتمی معاہدے کے طور پر نہیں۔
