مواد پر جائیں
خبر

ایران کا دعویٰ: جنگ ختم کرنے کی شرائط قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیں

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے اور دوبارہ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط قطر کے ذریعے واشنگٹن کو بھیج دی ہیں؛ ابھی کسی امریکی قبولیت یا حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

ای میل
مارگلہ نیوز ادارتی گرافک: ایران کا دعویٰ: جنگ ختم کرنے کی شرائط قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیں
Margalla News editorial graphic

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے موجودہ جنگ کے خاتمے اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ طور پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط قطر کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں۔ رضائی نے یہ بات الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جبکہ پژواک افغان نیوز نے بھی اتوار کو ان کے بیانات کی الگ رپورٹنگ کی ہے۔ اس پیش رفت کو فی الحال ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کا بیان سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کا اعلان۔

رضائی کے مطابق ایران قطر کے ساتھ رابطے میں ہے اور تہران کی شرائط امریکی حکومت تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق جنگ کے خاتمے سے متعلق ایرانی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام، ایران کے منجمد فنڈز کی رہائی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ رضائی نے مذاکرات شروع کرنے کے لیے سات شرائط کا بھی ذکر کیا، تاہم ان تمام نکات کی مکمل تفصیل عوامی طور پر جاری نہیں کی۔

اس خبر میں سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ یہ شرائط ایران کی جانب سے بیان کی گئی ہیں۔ ابھی تک ایسی کوئی آزاد یا امریکی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی کہ واشنگٹن نے انہیں قبول کر لیا ہے، کسی نئے مذاکراتی فریم ورک پر باضابطہ اتفاق ہو چکا ہے یا جنگ بندی طے پا گئی ہے۔ اسی لیے مارگلہ نیوز اسے ایک ایرانی سفارتی پیشکش اور سرکاری موقف کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے۔

قطر گزشتہ کئی برسوں میں خطے کے متعدد تنازعات میں ثالث یا پیغام رسانی کے کردار میں سامنے آتا رہا ہے۔ اس کے ایران، امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ عملی روابط موجود ہیں، جس کی وجہ سے دو فریقوں کے درمیان بالواسطہ رابطے میں دوحہ کا کردار ممکن ہوتا ہے۔ پژواک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قطر اور پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوششوں میں شامل رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں جب سابقہ مفاہمتی عمل اپنی مدت پوری کر چکا تھا۔

رضائی نے سفارتی راستے کی بات کے ساتھ ایران کی فوجی تیاری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران مزید امریکی حملے کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتا اور ایران نے گزشتہ لڑائیوں کے تجربے کے بعد اپنی فوجی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی ہے۔ یہ بیانات ایران کی عوامی دفاعی اور deterrence حکمت عملی کا حصہ ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی نیا امریکی حملہ لازماً قریب ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ نے ایرانی پیغام کو دو پہلوؤں سے بیان کیا: ایک طرف تہران جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے دروازے کو کھلا رکھنے کی بات کر رہا ہے، دوسری طرف وہ فوجی جواب اور خطے میں امریکی مفادات سے متعلق سخت انتباہات بھی دے رہا ہے۔ ایک سابق امریکی دفاعی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو میں اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا کہ واشنگٹن ایرانی شرائط کو فوری طور پر سنجیدہ مذاکراتی پیشکش سمجھے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں ہیں۔ خلیج میں بحری آمد و رفت، توانائی کی قیمتیں، بیمہ لاگت، فضائی راستے اور علاقائی تجارت اس تنازع سے متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان جیسے پڑوسی ممالک کے لیے بھی ایران کی صورتحال اہم ہے کیونکہ ایندھن کی قیمت، سرحدی تجارت، مہاجرین کی نقل و حرکت اور مغربی افغانستان سے جڑی اقتصادی سرگرمیاں خطے کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

پاکستان کی ممکنہ ثالثی یا سہولت کاری کا ذکر بھی موجود ہے، لیکن اسلام آباد کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ حتمی مذاکرات کا فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہوگا، جبکہ قطر، پاکستان یا دیگر ممالک صرف رابطے کے لیے جگہ، پیغام رسانی یا سفارتی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔

اب اصل توجہ امریکی ردعمل پر ہوگی۔ اگر واشنگٹن ان شرائط کو مسترد کرتا ہے، جزوی قبولیت ظاہر کرتا ہے یا کسی نئے مذاکراتی عمل کے لیے آمادگی ظاہر کرتا ہے تو صورتحال میں مادی تبدیلی آئے گی۔ اسی طرح قطر کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا ایران کی سات مذاکراتی شرائط کی مکمل تفصیل بھی اس خبر کو نمایاں طور پر اپڈیٹ کرے گی۔

مارگلہ نیوز نے رضائی کے بیانات کو پژواک اور الجزیرہ کی رپورٹس سے ملا کر دیکھا ہے۔ دونوں بنیادی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ رضائی نے قطر کے ذریعے شرائط بھیجے جانے اور امریکی جواب کے انتظار کی بات کی۔ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا امریکی رضامندی کے بارے میں ابھی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا، اس لیے خبر میں تمام سیاسی اور فوجی نکات کو واضح نسبت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-iran-us-conditions-qatar-rezaei-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://www.aljazeera.com/news/2026/9/19/iran-says-conditions-to-re-engage-in-talks-end-war-sent-to-us-via-qatar

اگلا قدم

خطہ کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔