ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خطے میں کسی نئی فوجی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو ایسی ممکنہ کارروائی کی تیاری سے متعلق معلومات ملی ہیں۔ رائٹرز نے 20 ستمبر کو ایرانی حکام کے بیانات کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
ایران کی جانب سے دی گئی معلومات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے مارگلہ نیوز تہران کے اس دعوے کو ایرانی حکومت کا مؤقف سمجھتے ہوئے رپورٹ کر رہا ہے، نہ کہ کسی طے شدہ نئی کارروائی کی تصدیق۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ڈرون اور میزائل حملوں، ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی اور مختلف علاقائی محاذوں پر جاری تنازعات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
ایران نے ماضی میں بھی خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین، جوہری تنصیبات یا اتحادی گروہوں کے خلاف بڑے حملے کا جواب دیا جائے گا۔ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
خطے میں کسی نئی براہ راست محاذ آرائی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج میں توانائی کی ترسیل، بحری راستے، فضائی سفر اور عالمی تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے اور متعدد علاقائی ممالک کے ساتھ دفاعی شراکت داری رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادیوں کو دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔
موجودہ ایرانی انتباہ میں جس ممکنہ کارروائی کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کی نوعیت اور وقت کے بارے میں مکمل عوامی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ اس وجہ سے کسی مخصوص حملے، ہدف یا ملک کے بارے میں قیاس کرنا مناسب نہیں۔
سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں، لیکن جوہری تنازع، علاقائی جنگوں اور باہمی عدم اعتماد نے مذاکراتی راستے کو مشکل بنا رکھا ہے۔
مارگلہ نیوز امریکی یا اتحادی حکومتوں کی جانب سے اس مخصوص ایرانی انتباہ پر تفصیلی جواب سامنے آنے کی صورت میں رپورٹ اپڈیٹ کرے گا۔
فی الحال بنیادی پیش رفت ایران کا انتباہ اور اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے نئی کشیدگی کی تیاری سے متعلق معلومات ملی ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی حد واضح رکھی جا رہی ہے۔

