روسی حکام نے کہا ہے کہ ماسکو اور اس کے گرد و نواح پر ہونے والے ایک بڑے ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ روسی دارالحکومت کی ایک آئل ریفائنری بھی متاثر ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق روسی حکام نے اس حملے کو یوکرین سے منسوب کیا اور اسے ماسکو کی جانب کیے گئے اب تک کے بڑے ڈرون حملوں میں شمار کیا۔ خبر کی اشاعت کے وقت یوکرین کی جانب سے اس مخصوص کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے والا کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے کہا کہ وسیع حملہ جاتی لہر کے دوران بڑی تعداد میں ڈرون روکے گئے۔ رائٹرز نے روسی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کے بعد سے 1,600 سے زیادہ ڈرون تباہ یا روکے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جن میں تقریباً 450 ماسکو کی طرف جانے والے بتائے گئے۔ یہ اعداد و شمار روسی حکام کے ہیں اور جنگ کے دوران فوری طور پر ان کی آزادانہ مکمل تصدیق ممکن نہیں ہوتی، اس لیے مارگلہ نیوز انہیں سرکاری دعوے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
حملوں کے نتیجے میں ماسکو کی ایک آئل ریفائنری کے حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ رائٹرز سے منسلک تصاویر میں اس مقام سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا جسے روسی حکام نے ڈرون حملے کا نتیجہ قرار دیا۔ ماسکو کے مضافاتی علاقے رامنسکوئے میں بھی نقصان اور لوگوں کے انخلا کی اطلاعات سامنے آئیں۔ روسی حکام کے مطابق اسی وسیع حملہ جاتی سلسلے میں ماسکو ریجن میں دو افراد ہلاک ہوئے۔
یوکرین نے فوری طور پر ماسکو حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کیف ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ روس کی جنگی صلاحیت کو سہارا دینے والے توانائی اور صنعتی اہداف جائز فوجی ہدف ہو سکتے ہیں، جبکہ روس یوکرینی حملوں کو شہری آبادی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ دونوں فریق اکثر ایک دوسرے کے دعوؤں، ہدف کی نوعیت، ہلاکتوں اور نقصان کے حجم سے اختلاف کرتے ہیں۔
اس حملے کی اہمیت اس کی جغرافیائی رسائی سے بھی جڑی ہے۔ ماسکو محاذِ جنگ سے کافی دور ہے، لیکن طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون اب روسی دارالحکومت اور اس کے صنعتی علاقوں کے لیے مستقل سکیورٹی مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس سے روس کو فضائی دفاعی نظام، ریڈار، الیکٹرانک جنگی صلاحیت اور اہم شہری و صنعتی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مزید وسائل مختص کرنا پڑتے ہیں۔
آئل ریفائنری کو پہنچنے والا نقصان جنگ کے اقتصادی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ روس کے تیل صاف کرنے والے کئی مراکز ماضی میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ کسی ایک ریفائنری کو محدود نقصان بھی عارضی پیداوار، مرمت کے اخراجات، مقامی ایندھن کی فراہمی اور لاجسٹکس پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حملے سے ریفائنری کی مجموعی پیداواری صلاحیت کتنی متاثر ہوئی، اس کی مکمل آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
حملہ روس کے پارلیمانی انتخابات کے دوران ہوا، جس سے سیاسی پہلو بھی پیدا ہوا۔ ماسکو کے میئر نے دعویٰ کیا کہ مقصد انتخابی عمل میں خلل ڈالنا تھا۔ یہ روسی حکام کی طرف سے یوکرین کی نیت کے بارے میں بیان ہے؛ مارگلہ نیوز کو ایسی آزاد شہادت نہیں ملی جس سے اس سیاسی مقصد کی براہ راست تصدیق ہو سکے۔
روسی اور یوکرینی افواج طویل عرصے سے ڈرون، میزائل اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے ایک دوسرے کے فوجی، توانائی اور لاجسٹک اہداف کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ اس جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کی رفتار نے نہ صرف فرنٹ لائن بلکہ سینکڑوں کلومیٹر دور شہروں اور صنعتی مراکز کو بھی جنگی خطرات کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔
اس قسم کے واقعات میں دونوں فریقوں کی طرف سے دیے گئے ڈرون اعداد و شمار، تباہ کیے گئے اہداف اور نقصان کی تفصیل میں فرق رہتا ہے۔ اسی لیے خبر میں روسی فضائی دفاعی دعوؤں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا گیا۔ ہلاکتوں اور ریفائنری نقصان کی بنیادی معلومات رائٹرز اور روسی حکام کی رپورٹنگ سے سامنے آئی ہیں۔
اگر یوکرین اس کارروائی کے بارے میں باضابطہ بیان جاری کرتا ہے، روس ہلاکتوں یا نقصان کے اعداد و شمار میں تبدیلی کرتا ہے، یا سیٹلائٹ و آزاد تصاویر سے ریفائنری کے نقصان کی زیادہ واضح تصویر سامنے آتی ہے تو مارگلہ نیوز اسی خبر کو مادی اپڈیٹ کے ساتھ تازہ کرے گا۔

