جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اتوار کو تقریباً تین گھنٹوں کے وقفے میں دو بیلسٹک میزائل اپنے مشرقی ساحل کی سمت داغے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تقریباً ایک ہفتے کے دوران شمالی کوریا کی دوسری میزائل سرگرمی ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج نے لانچز کی نگرانی کی اور خطے میں متعلقہ معلومات امریکہ اور جاپان کے ساتھ شیئر کرنے کا معمول برقرار رکھا۔ ابتدائی رپورٹس میں میزائلوں کی مکمل تکنیکی خصوصیات یا حتمی آزمائشی مقصد کے بارے میں محدود معلومات دستیاب تھیں۔
شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد پابندیاں موجود ہیں۔ پیانگ یانگ ان پابندیوں اور امریکہ کی قیادت میں فوجی دباؤ کو مسترد کرتا ہے اور اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو قومی دفاع کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ تینوں ممالک نے حالیہ برسوں میں میزائل نگرانی، مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔
پیانگ یانگ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مشترکہ فوجی سرگرمیوں کو اپنے خلاف تیاری قرار دیتا ہے۔ شمالی کوریا اکثر اپنی میزائل سرگرمیوں کو بیرونی خطرات کے جواب یا دفاعی صلاحیت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی سرگرمی حالیہ ایک اور میزائل ٹیسٹ کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آئی۔ بار بار ہونے والے لانچز خطے میں فوجی تناؤ کو برقرار رکھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت جب شمالی کوریا اپنی جوہری حیثیت کو ناقابلِ واپسی قرار دیتا ہے۔
میزائل کے درست ماڈل، پرواز کے فاصلے اور ہدف سے متعلق تفصیلات مختلف دفاعی اداروں کی تکنیکی جانچ کے بعد زیادہ واضح ہو سکتی ہیں۔ مارگلہ نیوز ابتدائی اعداد یا غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعووں کو حتمی تفصیل کے طور پر شامل نہیں کر رہا۔
شمالی کوریا کی میزائل سرگرمی مشرقی ایشیا سے باہر بھی سفارتی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی پابندیوں، امریکہ-چین تعلقات اور روس کے ساتھ پیانگ یانگ کے بڑھتے روابط کے وسیع تر ماحول میں ہوتی ہے۔
فی الحال بنیادی طور پر تصدیق شدہ اطلاع یہ ہے کہ جنوبی کوریا نے دو الگ بیلسٹک میزائل لانچ ریکارڈ کیے ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے ان دونوں لانچز کے مقصد کی تفصیلی فوری وضاحت سامنے آنے پر خبر اپڈیٹ کی جا سکتی ہے۔
مارگلہ نیوز میزائل کی نوعیت، پرواز اور علاقائی ردعمل سے متعلق مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر اس رپورٹ میں اضافہ کرے گا۔

