اسلامی تعاون تنظیم، یعنی او آئی سی، نے افغانستان سے متعلق اپنے رابطہ گروپ کا اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو سامنے آنے والی افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت ہو گا جب دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سفارت کار نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے افغانستان ایک بار پھر مسلم دنیا کے ایک اہم کثیرالجہتی فورم کے سفارتی ایجنڈے پر نمایاں ہو رہا ہے۔
پژواک افغان نیوز اور آریانا نیوز نے او آئی سی کے اعلان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان رابطہ گروپ جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر ملاقات کرے گا۔ ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی کہ اجلاس سے پہلے کسی نئے سیاسی معاہدے، افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے، پابندیوں میں تبدیلی یا کسی باضابطہ مشترکہ پالیسی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اسی لیے مارگلہ نیوز اس خبر کو فی الحال ایک اہم طے شدہ سفارتی اجلاس کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، نہ کہ کسی پہلے سے طے شدہ نتیجے کے طور پر۔
او آئی سی کا افغانستان رابطہ گروپ اس لیے اہم ہے کہ اس میں شامل مسلم ممالک افغانستان کے ساتھ سیاسی رابطوں، انسانی امداد، اقتصادی تعاون، مہاجرین کی واپسی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی شمولیت جیسے موضوعات پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت کے لیے مسلم ممالک کے ساتھ روابط گزشتہ چند برسوں میں خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ رہے ہیں، جبکہ متعدد او آئی سی رکن ممالک کابل کے ساتھ سفارتی، تجارتی یا انسانی بنیادوں پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اجلاس کی اہمیت صرف افغانستان تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی، روس اور یوکرین کا تنازع، عالمی توانائی کی قیمتیں، انسانی امداد کے محدود ہوتے وسائل اور بین الاقوامی اداروں کی مؤثریت سے متعلق سوالات ایک ساتھ عالمی ایجنڈے پر موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں افغانستان کے لیے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنا آسان نہیں، اس لیے او آئی سی رابطہ گروپ کی میٹنگ افغان معاملات کو ایک مخصوص سفارتی جگہ فراہم کر سکتی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے چند بڑے موضوعات مسلسل زیر بحث رہے ہیں۔ ان میں عالمی سطح پر رسمی شناخت کا مسئلہ، پابندیوں اور مالیاتی رکاوٹوں کے اثرات، انسانی امداد کی پائیداری، ملک سے باہر رہنے والے افغان شہریوں کی واپسی، علاقائی تجارت، سرحدی سلامتی اور مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی رابطوں کا مستقبل شامل ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ان میں سے کسی موضوع پر اس اجلاس سے متعلق حتمی نتیجہ اس وقت تک منسوب نہ کیا جائے جب تک او آئی سی یا شریک حکومتیں باضابطہ اعلامیہ جاری نہ کریں۔
یہ رابطہ گروپ کوئی پہلی مرتبہ بننے والا فورم نہیں۔ او آئی سی نے ستمبر 2025 میں بھی نیویارک میں 80ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر افغانستان سے متعلق وزارتی رابطہ گروپ کا اجلاس منعقد کیا تھا۔ گزشتہ سال کی وہ نشست اس بات کا پس منظر فراہم کرتی ہے کہ افغانستان پر مشاورت کے لیے یہ ایک قائم شدہ سفارتی میکانزم ہے۔ البتہ گزشتہ اجلاس کے مؤقف یا نتائج کو خودکار طور پر موجودہ اجلاس پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
کابل کے لیے اس اجلاس کی عملی اہمیت اس بات سے واضح ہو گی کہ شریک ممالک کس سطح کے نمائندے بھیجتے ہیں، کون سے نکات مشترکہ اعلامیے میں شامل کیے جاتے ہیں اور آیا گفتگو محض عمومی سفارتی حمایت تک محدود رہتی ہے یا انسانی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں کسی عملی فالو اپ کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر افغان حکام اجلاس میں شریک ہوتے ہیں یا اجلاس کے بعد اپنا ردعمل جاری کرتے ہیں تو اس سے بھی رابطہ گروپ کی سمت کے بارے میں زیادہ واضح تصویر سامنے آئے گی۔
مارگلہ نیوز نے اس خبر میں دستیاب معلومات کو دو الگ افغان ذرائع سے ملا کر دیکھا ہے۔ دونوں نے اجلاس کے انعقاد کی بنیادی خبر او آئی سی سے منسوب کی ہے۔ ابھی تک ایسی آزاد دستاویز دستیاب نہیں جس سے اجلاس کے حتمی ایجنڈے یا متوقع فیصلوں کی مکمل تصدیق ہو، اس لیے خبر میں قیاس آرائی سے گریز کیا گیا ہے۔
فی الحال قابلِ تصدیق بات یہی ہے کہ او آئی سی کا افغانستان رابطہ گروپ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد اگر باضابطہ اعلامیہ، مشترکہ نکات، افغان حکومت کا ردعمل یا کسی رکن ملک کی تفصیلی پوزیشن سامنے آتی ہے تو یہی خبر نئی معلومات کے ساتھ اپڈیٹ کی جائے گی تاکہ ایک ہی پیش رفت کی غیر ضروری نقل تیار نہ ہو۔

