افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کابل پاکستان کے ساتھ بات چیت اور تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے اور اختلافات کم کرنے کے لیے سعودی عرب سمیت ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
العریبیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو میں مجاہد نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور تعاون کے بہتر طریقہ کار ہونے چاہییں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کے اندر کسی پاکستانی فوجی کارروائی کو خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور کابل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مجاہد نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کیا کہ افغان سرزمین تحریک طالبان پاکستان یا دوسرے مسلح گروہوں کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ انٹرویوز میں الزام لگایا ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے جگہ اور سہولت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے افغان حکام کو اس مسئلے پر اقدام کرنا ہوگا، اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کیا۔
دونوں جانب کے یہ الزامات اور تردیدیں ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور ان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ تاہم دونوں بیانات سے واضح ہے کہ سکیورٹی تنازع برقرار رہنے کے باوجود مذاکرات اور ثالثی کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
