پاکستان نے پیر کو کہا ہے کہ افغانستان کے اندر تین اہداف پر فضائی حملوں میں 28 افراد مارے گئے جنہیں اس نے دہشت گرد اور خودکش حملہ آور قرار دیا، جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ کنڑ میں انہی حملوں کے دوران تین شہری جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے۔ دونوں حکومتوں کے بیانات ایک ہی سرحد پار کارروائی سے متعلق ہیں لیکن نشانہ بننے والوں کی شناخت اور نوعیت کے بارے میں ان کے دعوے مختلف ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے 28 افراد مارے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں عسکریت پسند اور خودکش حملہ آور قرار دیا۔ رائٹرز کے مطابق مختصر پاکستانی بیان میں ان افراد کی شناخت یا تفصیلی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ اسی لیے مارگلہ نیوز اس تعداد اور شناخت کو پاکستانی حکومت سے منسوب دعوے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
افغان حکام کے مطابق کنڑ کے ضلع نورگل میں ایک گھر نشانہ بنا، جہاں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کے مطابق پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی دو مقامات پر بمباری ہوئی، جس سے ایک دکان اور ایک خالی گھر متاثر ہوئے، تاہم وہاں جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس کا مناسب جواب دے گا۔ پاکستان طویل عرصے سے طالبان حکام پر ایسے مسلح گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی اس ملک کا داخلی مسئلہ ہے۔
یہ فضائی حملے شمال مغربی پاکستان میں حالیہ بڑے عسکریت پسند حملوں کے بعد ہوئے، جن میں کوہاٹ پولیس کمپاؤنڈ پر حملہ اور ہنگو میں جھڑپ شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حافظ گل بہادر کی قیادت والے ایک گروہ نے کوہاٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پاکستان کے تازہ بیان اور افغان حکام کے شہری ہلاکتوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تطبیق ابھی نہیں ہو سکی۔ اس لیے مارگلہ نیوز کسی ایک فریق کی جانب سے تمام مارے گئے افراد کی شناخت کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔ مزید معتبر معلومات سامنے آنے پر اسی خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

