پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور تیز آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرا نے ہفتے کے روز خطے کی تازہ صورتحال پر بات کی۔ ڈار نے کہا کہ بحری آمدورفت اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹیں ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ دونوں فریقوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ملاقات پر اتفاق کیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب خلیج اور بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستوں میں کشیدگی نے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے قیمت اور سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں ایندھن بچت کے اقدامات اور محدود صارفین کے لیے ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی ہے۔
ڈار نے بات چیت اور سفارت کاری کو علاقائی امن و استحکام کا راستہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ، ڈان، دی نیوز اور دیگر پاکستانی ذرائع نے گفتگو کے بنیادی نکات کی یکساں رپورٹنگ کی ہے۔
