پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مذاکرات اور انٹیلی جنس تعاون سے متعلق تازہ گفتگو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ڈان کی 20 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا کہ اسلام آباد نے مسلسل بات چیت اور تعمیری روابط کی کوشش کی ہے، لیکن ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو پاکستان کے بقول اس کے شہریوں کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو تحفظ دیں۔
یہ ردعمل ذبیح اللہ مجاہد کے العربیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو کے بعد سامنے آیا۔ مجاہد نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بات چیت چاہتا ہے اور دونوں ممالک کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور تعاون کے زیادہ مضبوط طریقہ کار بنانے چاہییں۔
مجاہد نے سعودی عرب کے ممکنہ بڑے ثالثی کردار کا بھی خیرمقدم کیا اور اسے دونوں ممالک کا دوست قرار دیا۔ یہ کابل کا بیان ہے اور اس سے کسی نئی باضابطہ ثالثی یا مذاکراتی فریم ورک کے قیام کی خودکار تصدیق نہیں ہوتی۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے کابل کی جانب سے افغانستان کے اندر ممکنہ پاکستانی فوجی کارروائی پر جوابی اقدام کی تنبیہ بھی مسترد کی۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان حکام کو ذمہ داری منتقل کرنے کے بجائے سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
افغان طالبان حکومت بارہا اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے کہ وہ پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ کابل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر سکیورٹی مسائل بنیادی طور پر پاکستان کی اپنی ذمہ داری ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں، تحریک طالبان پاکستان سے متعلق الزامات، تجارتی رکاوٹوں اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث دباؤ کا شکار رہے ہیں۔
اسلام آباد TTP کو اپنی داخلی سلامتی کے لیے بڑے خطرات میں شمار کرتا ہے اور افغان طالبان سے اس کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ کابل کہتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
موجودہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق بظاہر بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کر رہے، لیکن دہشت گردی، خودمختاری اور سرحد پار کارروائیوں کے سوال پر ان کے مؤقف میں نمایاں فرق برقرار ہے۔
مارگلہ نیوز دونوں حکومتوں کے دعووں کو انہی سے منسوب کر رہا ہے۔ کسی مخصوص نیٹ ورک کی موجودگی، سرحد پار حملے کی ذمہ داری یا ریاستی معاونت جیسے متنازع دعووں کو آزاد ثبوت کے بغیر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا رہا۔

