افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے کہا ہے کہ ترکی اور قطر کے اعلیٰ سکیورٹی وفود کی حالیہ کابل ملاقاتوں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی، ایران کی صورت حال اور علاقائی سلامتی کے معاملات زیر بحث آئے۔
ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالن اور قطر کے قومی سلامتی کے نائب مشیر حمد بن خمیس الکبیسی نے گزشتہ دنوں کابل میں افغان حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔ افغان وزارت دفاع نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت میں تعلقات اور سکیورٹی تعاون پر توجہ دی گئی۔
قانع کے مطابق فریقین نے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون اور علاقائی استحکام پر بھی زور دیا۔ پاکستان کے ساتھ اختلافات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی بات بھی کی گئی۔
یہ رابطے ایسے وقت ہوئے ہیں جب کابل اور اسلام آباد کے تعلقات سرحدی سلامتی اور پاکستان میں عسکریت پسند حملوں کے معاملے پر دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان افغان سرزمین سے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا الزام عائد کرتا ہے، جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
