اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی کے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بدری سے پہلے ہر فرد کے حالات کا جائزہ لیا جائے اور بالخصوص خواتین اور بغیر سرپرست بچوں جیسے کمزور افراد کو خطرے کی صورت میں واپس نہ بھیجا جائے۔
TOLOnews کے مطابق ماہرین نے اپنے بیان میں non-refoulement کے اصول کی پابندی پر زور دیا، جس کے تحت کسی شخص کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے سنگین نقصان یا ظلم و ستم کا حقیقی خطرہ ہو۔ بیان نے معاملے کو صرف پاکستان تک محدود نہیں رکھا اور تمام ممالک سے اپنی متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ میں پنجاب حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 39 حراستی مراکز میں 213 افغان شہری موجود ہیں جنہیں طورخم کے راستے افغانستان بھیجے جانے کی توقع ہے۔ یہ اعداد و شمار متعلقہ حکام سے منسوب ہیں؛ Margalla News نے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
اسی وسیع تر تناظر میں لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ سے متعلق ایک علیحدہ معاملے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے واپسی کے حکم کی معطلی میں توسیع کی ہے۔
