دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے لیے نیویارک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں اس مرتبہ عالمی سفارت کاری ایک غیر معمولی طور پر پیچیدہ ماحول میں ہو رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت اس اجتماع میں شریک ہونے کی توقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور کشیدگی، روس اور یوکرین کا تنازع، مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی، توانائی کی سلامتی، عالمی معیشت اور اقوام متحدہ کی اپنی مالی و ادارہ جاتی مشکلات اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی مؤثریت کے بارے میں عالمی سطح پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری مدت 2026 کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے اور اگلی قیادت کے انتخاب کا عمل بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ اسی دوران سلامتی کونسل بڑی جنگوں پر فیصلہ کن کارروائی کرنے میں اکثر ویٹو اور بڑی طاقتوں کے اختلافات کے باعث محدود دکھائی دیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ غالب امکان ہے کہ نیویارک میں کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا مرکزی موضوع رہے گا۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل ہوتی کشیدگی نے خلیج کی سلامتی، تیل اور گیس کی قیمتوں، بحری جہاز رانی اور عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تازہ حملوں اور جوابی اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ جنرل اسمبلی خود سلامتی کونسل کی طرح پابند فیصلے نافذ نہیں کر سکتی، لیکن اس کے سائیڈ لائنز پر ہونے والی ملاقاتیں سفارتی رابطوں کے لیے اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔
یوکرین جنگ بھی عالمی ایجنڈے کے مرکز میں رہے گی۔ ماسکو اور کیف ایک دوسرے کے علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششیں بار بار رکاوٹوں کا شکار ہوئی ہیں۔ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ویٹو کا اختیار رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اندر یوکرین سے متعلق کسی متفقہ سخت اقدام کی گنجائش محدود رہی ہے۔
اس مرتبہ مصنوعی ذہانت بھی روایتی جنگ اور سلامتی کے مسائل کے ساتھ ایک بڑے عالمی موضوع کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ حکومتیں AI کے فوجی استعمال، غلط معلومات، سائبر حملوں، انتخابی مداخلت اور تیزی سے ترقی کرتے ماڈلز کے لیے مشترکہ بین الاقوامی قواعد کے سوال پر مختلف آرا رکھتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں مصنوعی ذہانت کی سلامتی اور عالمی حکمرانی سے متعلق مباحث نمایاں رہیں گے۔
اقوام متحدہ خود شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بعض بڑے رکن ممالک کی ادائیگیوں میں تاخیر، فنڈنگ میں کمی اور انسانی امداد کے بڑھتے مطالبات نے ادارے کے بجٹ پر بوجھ بڑھایا ہے۔ امن مشنز، ترقیاتی پروگرام اور انسانی امدادی ادارے محدود وسائل میں زیادہ بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کے اثرات افغانستان جیسے ممالک تک پہنچتے ہیں جہاں متعدد انسانی اور ترقیاتی پروگرام بین الاقوامی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں۔
افغانستان پوری جنرل اسمبلی کا مرکزی موضوع نہیں ہوگا، لیکن اس کے لیے نیویارک میں ایک الگ سفارتی راستہ موجود ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے افغانستان رابطہ گروپ کا اجلاس جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے افغانستان کے سیاسی، انسانی اور علاقائی معاملات کو مسلم ممالک کے ایک مخصوص فورم میں اٹھانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ہفتہ اہم ہے۔ اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں، خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی و اقتصادی تعلقات اور افغانستان کے ساتھ کشیدہ معاملات میں سفارتی طور پر سرگرم رہا ہے۔ جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں اکثر رسمی تقریروں سے زیادہ عملی نتائج پیدا کرتی ہیں، اس لیے پاکستانی سفارت کاری کی توجہ صرف جنرل اسمبلی ہال کی تقاریر تک محدود نہیں ہوگی۔
نیویارک میں آنے والے دنوں میں بہت بڑی تعداد میں سیاسی بیانات، تجاویز، دعوے اور سفارتی اعلانات سامنے آئیں گے۔ ہر بیان کو حتمی پالیسی یا معاہدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ مشترکہ اعلامیہ، تحریری معاہدہ، سرکاری فیصلہ اور محض سیاسی تقریر کے درمیان واضح فرق رکھنا ضروری ہے۔
مارگلہ نیوز اس اعلیٰ سطحی ہفتے کی اہم پیش رفت کو الگ الگ موضوعاتی خبروں میں فالو کرے گا۔ افغانستان سے متعلق OIC اجلاس، ایران اور امریکہ کے رابطے، مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی، یوکرین اور عالمی اقتصادی اثرات میں اگر کوئی ٹھوس فیصلہ یا قابلِ تصدیق پیش رفت سامنے آتی ہے تو متعلقہ خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا، جبکہ محض دہرائے گئے سیاسی بیانات کو غیر ضروری طور پر نئی breaking story نہیں بنایا جائے گا۔

