امریکا اور چین کی ٹیکنالوجی supply chains تیزی سے الگ ہونے کے باوجود سرمایہ کار دونوں ملکوں کے artificial-intelligence ecosystems میں سرمایہ لگاتے جا رہے ہیں۔ یہ تصویر Reuters کے 22 ستمبر کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں سامنے آئی۔
Reuters کے مطابق امریکی پابندیوں اور advanced chips کی چین کو فراہمی پر محدودیت کے باوجود Wall Street banks نے رواں سال چین کی ایک درجن سے زیادہ AI اور semiconductor listings اور follow-on share sales میں مشاورتی یا underwriting کردار ادا کیا۔
دوسری جانب چینی سرمایہ بھی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں جا رہا ہے۔ چین کے outbound mutual funds کے زیرِ انتظام assets کا تقریباً نصف امریکی stocks میں ہے، جبکہ Reuters کے جمع کردہ اعداد کے مطابق چین اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے investors امریکی AI funding rounds میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
یہ رجحان geopolitical separation اور منافع کی تلاش میں سرمایہ کاری کے رویے کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ اسے کسی نئی امریکی یا چینی سرکاری پالیسی یا technology restrictions میں باضابطہ نرمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
بعض سرمایہ کار بظاہر ایک ہی فریق کا انتخاب کرنے کے بجائے دونوں AI ecosystems کی ممکنہ ترقی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ تجزیہ اعلیٰ سطحی امریکا-چین رابطوں سے پہلے سامنے آیا ہے، تاہم آئندہ سرمایہ کاری export controls، national-security rules اور دونوں حکومتوں کی ممکنہ نئی پابندیوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔


