سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور قریبی شہر الخرج میں ہفتے کو فضائی خطرے کے الرٹس جاری کیے گئے، جبکہ بعد میں سعودی سول ڈیفنس نے دونوں مقامات کے لیے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض کو ایک ”دشمن فضائی خطرے“ کا سامنا تھا۔ عینی شاہدین نے شہر میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جبکہ شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب شعلے اور گہرے سیاہ دھویں کا بڑا بادل بھی دیکھا گیا۔
روئٹرز کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب آگ اور دھویں کی فوری وجہ واضح نہیں ہو سکی اور اس وقت سعودی حکومت کی جانب سے اس مخصوص واقعے کے بارے میں کوئی فوری وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ایئرپورٹ خود براہِ راست حملے کا نشانہ بنا۔
یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض میں ”حساس اہداف“ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ ریاض کی جانب آنے والے ایک میزائل کو روک لیا گیا، جبکہ دیگر حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی ایک اہم تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا، جس کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ جولائی میں گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کے خلاف بحیرۂ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا، جس سے باب المندب اور علاقائی جہاز رانی کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔
سعودی عرب کے توانائی کے متبادل راستوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ 11 ستمبر کو مشرقی سے مغربی ساحل تک جانے والی اہم سعودی آئل پائپ لائن ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند ہوئی تھی۔ سعودی عرب نے ان ڈرونز کو عراق سے آنے والے حملوں سے منسوب کیا تھا، اس لیے اس واقعے کو براہِ راست حوثیوں سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور باب المندب عالمی تیل اور تجارت کے لیے انتہائی اہم راستے بنے ہوئے ہیں۔ ان گزرگاہوں یا سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں طویل خلل عالمی منڈیوں اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے اضافی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ریاض کے قریب ہونے والے تازہ واقعات نے جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ کیا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کہ کشیدگی کس حد تک بڑھے گی۔
