مواد پر جائیں
خبر

2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 990 عسکریت پسند حملے، مجموعی جنگی ہلاکتیں 3,155: PICSS

PICSS کے ماہانہ اعداد کے مطابق جنوری تا اگست 2026 میں پاکستان میں عسکریت پسند حملوں کی مجموعی تعداد 990 بنتی ہے، جبکہ حملوں اور سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے منسلک مجموعی ہلاکتیں 3,155 تک پہنچ گئیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

ای میل
پاکستان میں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی صورتحال — نمائشی فائل فوٹو
تصویر: U.S. Army photo by Pfc. Joshua Kruger / Wikimedia Commons

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (PICSS) کے شائع کردہ ماہانہ اعداد و شمار پاکستان میں 2026 کے دوران سکیورٹی صورتحال میں شدید دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

PICSS کے دستیاب ماہانہ ڈیٹا کے مطابق جنوری سے اگست 2026 تک عسکریت پسند حملوں کی مجموعی تعداد 990 بنتی ہے۔ اسی مدت میں عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے منسلک مجموعی جنگی ہلاکتیں 3,155 تک پہنچ گئیں۔

یہ فرق اہم ہے: 3,155 کا عدد صرف دہشت گرد یا عسکریت پسند حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا نہیں، بلکہ PICSS کی تعریف کے مطابق حملوں اور counter-militancy operations دونوں سے جڑی مجموعی combat-related deaths کا ہے۔

PICSS نے پہلے سات ماہ، یعنی جنوری سے جولائی 2026 تک 2,786 ایسی ہلاکتیں ریکارڈ کی تھیں۔ جولائی سال کا سب سے خونریز مہینہ رہا، جب 606 افراد ہلاک اور 232 زخمی ہوئے۔ ان ہلاکتوں میں 401 عسکریت پسند، 112 سکیورٹی اہلکار، 74 شہری اور 19 امن کمیٹی ارکان شامل تھے۔ جولائی میں آٹھ خودکش حملے بھی ریکارڈ ہوئے۔

اگست میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد بڑھ کر 199 ہو گئی، جو جولائی کے 144 حملوں سے 38 فیصد زیادہ تھی۔ تاہم حملوں کے براہِ راست انسانی اثرات میں کمی آئی: اگست میں حملوں کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک اور 181 زخمی ہوئے۔ اسی ماہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 211 اموات ریکارڈ ہوئیں، جن میں 203 عسکریت پسند شامل تھے۔ یوں اگست کی مجموعی combat-related ہلاکتیں 369 اور مجموعی زخمی 217 رہے۔

PICSS نے اگست میں تین خودکش حملے ریکارڈ کیے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد آٹھ تھی۔

سال کے ابتدائی مہینوں میں بھی مجموعی ہلاکتوں کی سطح بلند رہی۔ جنوری میں 361، فروری میں 506، مارچ میں 331 اور اپریل میں 291 combat-related deaths ریکارڈ کی گئیں۔ اپریل تک PICSS 401 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کر چکا تھا۔

مارچ میں حملوں کی تعداد 146 تک پہنچی، جبکہ اپریل میں یہ کم ہو کر 85 رہ گئی۔ جون میں 118 حملے ریکارڈ ہوئے، جولائی میں 144 اور اگست میں 199۔ PICSS کی جون رپورٹ کے مطابق جون کے 118 حملے مئی کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم تھے، جس سے مئی کی تعداد تقریباً 128 بنتی ہے۔

مجموعی رجحان کا تقابل گزشتہ دو برسوں سے بھی تشویش ناک تصویر پیش کرتا ہے۔ PICSS کے مطابق 2024 میں combat-related deaths کی مجموعی تعداد 1,950 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 3,413 ہو گئی۔ 2025 میں ملک بھر میں 1,066 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے تھے۔

اس حساب سے 2026 کے صرف پہلے آٹھ ماہ میں 990 حملے ریکارڈ ہو چکے ہیں—یعنی 2025 کے پورے سال کے 1,066 حملوں سے صرف 76 کم۔

PICSS کے تازہ اعداد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی طور پر تشدد کا بڑا بوجھ خیبر پختونخوا، سابق قبائلی اضلاع اور بلوچستان پر برقرار ہے، جبکہ حملوں کی نوعیت میں ٹارگٹ کلنگ، آئی ای ڈیز، tactical assaults، ڈرون اور quadcopter حملے اور خودکش حملے شامل ہیں۔

اعداد و شمار مختلف زمروں کو الگ کرتے ہیں، اس لیے حملوں میں براہِ راست ہونے والی ہلاکتوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ Margalla News نے اسی وجہ سے PICSS کے اعداد کو ان کی اصل درجہ بندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/special-pakistan-picss-990-attacks-3155-deaths-jan-aug-2026?lang=ur

ماخذ: https://www.picss.net/latest-reports/militant-attacks-increase-but-human-impact-declines-in-august-amid-sustained-ct-pressure-picss/

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔