کابل — عالمی ادارہ صحت کی افغانستان ہیلتھ ایمرجنسی رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں کئی اہم متعدی بیماریوں کے کیس جولائی کے مقابلے میں کم ہوئے، تاہم پانی سے پھیلنے والی اور ویکسین سے بچاؤ ممکن بیماریوں کا خطرہ برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق پانی والے شدید اسہال کے کیس 23.6 فیصد، نمونیا 17.4 فیصد، مشتبہ خسرہ 44.5 فیصد، مشتبہ ڈینگی 41 فیصد، مشتبہ کانگو بخار 36.8 فیصد اور تصدیق شدہ کووڈ کیس 9.2 فیصد کم ہوئے۔
اگست میں پانی والے شدید اسہال کے 18,329 کیس اور چار اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ نمونیا کے 64,506 کیس اور 170 اموات درج ہوئیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوری سے اگست تک پانچ اہم سرحدی راستوں سے مجموعی طور پر 1,186,755 افراد افغانستان واپس آئے۔ ان میں تقریباً 588,022 افراد تورخم، 257,644 اسلام قلعہ، 232,078 میلک، 73,724 سپین بولدک اور 35,287 بہرامچہ سے داخل ہوئے۔
صرف اگست میں 109,305 افراد واپس آئے، جن میں 59 فیصد ایران سے تھے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چلنے والے مراکز نے اگست میں 88,305 افراد کو بیرونی مریضوں کی خدمات فراہم کیں، 4,380 بچوں کو ویکسین دی گئی، 4,172 افراد کو ذہنی صحت مشاورت ملی اور دور دراز علاقوں کے 65,652 افراد کو صحت سے متعلق آگاہی دی گئی۔
ادارے نے خبردار کیا کہ واپس آنے والوں کی بڑی تعداد صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے اور وباؤں کی تیاری و ردعمل کے لیے مزید وسائل درکار ہیں۔
