سعودی عرب کی ڈیلٹا انرجی انٹرنیشنل نے افغانستان کی وزارت کان کنی و پٹرولیم کے ساتھ ہرات کے کشک–تیرپل علاقے میں تیل و گیس کی تلاش اور نکاسی کے لیے 25 سالہ معاہدہ کیا ہے۔ کمپنی اور افغان حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت ابتدائی سرمایہ کاری 200 ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
ابتدائی معاہداتی سرمایہ کاری اور مستقبل میں ممکنہ طور پر کہیں زیادہ بڑی سرمایہ کاری کے درمیان فرق اہم ہے۔ تیل و گیس کے منصوبوں میں عام طور پر پہلے ارضیاتی سروے، آزمائشی کھدائی، ذخائر کی مقدار کا اندازہ اور فنی و اقتصادی جائزے کیے جاتے ہیں۔ ان مراحل کے بعد ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی علاقے سے تجارتی پیمانے پر کتنی پیداوار ممکن ہے۔
ڈیلٹا انرجی نے افغانستان کے توانائی شعبے میں مستقبل کے لیے کہیں زیادہ بڑی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بیان کیے ہیں۔ یہ اعداد پکی یا فوری سرمایہ کاری نہیں ہیں۔ ان کا انحصار تلاش کے نتائج، مالی وسائل کی دستیابی، اجازت ناموں، ضروری بنیادی ڈھانچے، منڈی کی صورت حال اور کمپنی کے حتمی سرمایہ کاری فیصلوں پر ہوگا۔
ہرات کے اس منصوبے کے لیے قریب ترین عملی مرحلہ یہ ہے کہ معاہدے میں طے شدہ تلاش اور جائزے کا کام مقررہ انداز میں آگے بڑھتا ہے یا نہیں۔ اگر قابلِ استعمال ذخائر کی مقدار، معیار اور نکاسی کی لاگت تجارتی معیار پر پوری اترتی ہے تو اس کے بعد پیداوار، پراسیسنگ اور ترسیل کے لیے اضافی سرمایہ درکار ہوگا۔
افغانستان کے لیے کسی بھی بڑے توانائی منصوبے کا معاشی اثر صرف اعلان کردہ رقم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ روزگار، مقامی خریداری، ٹیکس یا محصول، توانائی کی دستیابی اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر اثر اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب منصوبہ تلاش کے مرحلے سے عملی نکاسی کی طرف بڑھے۔ فی الحال 200 ملین ڈالر وہ ابتدائی رقم ہے جو معاہدے کے ساتھ بیان کی گئی ہے، جبکہ اس سے بڑے مستقبل کے اعداد مشروط امکانات ہیں۔
