افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صنعتی پارکوں کے لیے 160 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین مختص کی گئی ہے۔ نائب وزیر احمداللہ زاہد کے مطابق تقریباً 100 ہزار ایکڑ زمین باقاعدہ طور پر وزارت کو منتقل ہو چکی ہے، جبکہ باقی زمین کی منتقلی مختلف مراحل میں ہے۔
زاہد نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں تقریباً 5 ہزار صنعتی کارخانے کام کر رہے ہیں۔ زمین اور کارخانوں دونوں سے متعلق یہ اعداد سرکاری حکام کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔ صرف مختص زمین کی مجموعی مقدار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں سے کتنے رقبے پر سڑک، بجلی، پانی اور دوسری بنیادی سہولتیں مکمل ہو چکی ہیں یا کتنی زمین پر کارخانے عملی پیداوار کر رہے ہیں۔
صنعتی پارک کے لیے زمین بنیادی شرط ضرور ہے، لیکن اکیلی زمین کارخانہ نہیں چلا سکتی۔ پیداواری اداروں کو مستقل بجلی، پانی، سڑک، مواصلاتی سہولت، مالی وسائل، تربیت یافتہ کارکن، خام مال اور تیار مصنوعات کے خریداروں تک رسائی چاہیے۔ اگر زمین مختص ہو جائے مگر بجلی یا سڑک موجود نہ ہو تو سرمایہ کار پلاٹ حاصل کرنے کے باوجود پیداوار شروع نہیں کر سکتا۔
اسی وجہ سے صنعتی زمین کے پروگرام کا اگلا اہم مرحلہ پلاٹوں کو عملی طور پر قابلِ استعمال بنانا ہے۔ زمین کی ملکیت اور حد بندی کے ساتھ بجلی کے کنکشن، اندرونی سڑکیں، پانی، نکاسی، حفاظتی انتظامات اور کاروباری خدمات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
پروگرام کی کامیابی کا بہتر پیمانہ مستقبل میں یہ ہوگا کہ مختص زمین پر کتنے نئے کارخانے واقعی پیداوار شروع کرتے ہیں، کتنی مستقل ملازمتیں بنتی ہیں، کتنی بجلی دستیاب ہوتی ہے اور مقامی یا برآمدی منڈی میں کتنی اضافی مصنوعات فروخت ہوتی ہیں۔ سرکاری زمین کا بڑا عدد صنعتی توسیع کی گنجائش دکھاتا ہے، لیکن اس کے معاشی نتائج عملی بنیادی ڈھانچے اور نجی سرمایہ کاری سے طے ہوں گے۔
