اقوام متحدہ کے ادارے برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی 29 اکتوبر 2026 کو جاری سروے رپورٹ میں افغانستان میں افیون پیدا کرنے والی پوست کی کاشت میں نمایاں اضافے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔ تاہم افغان وزارتِ داخلہ نے ان اعدادوشمار سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں اس کی فصل تلف کرنے کی مہم کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ دونوں مؤقف کی آزادانہ طور پر یکساں پیمانے پر تصدیق نہیں ہوئی۔
اقوام متحدہ کے سروے میں کیا کہا گیا؟
یو این او ڈی سی کے مطابق 2026 میں افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 43 ہزار ہیکٹر سے زیادہ تھا، جبکہ 2025 میں یہ تقریباً 10 ہزار ہیکٹر تھا۔ افیون کی ممکنہ پیداوار کا اندازہ تقریباً 300 ٹن سے بڑھ کر تقریباً 1,500 ٹن بتایا گیا۔ ادارے کے مطابق یہ زیرِ کاشت رقبے میں تقریباً 330 فیصد اور تخمینی پیداوار میں تقریباً 400 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مقدار اب بھی طالبان حکام کی جانب سے 2022 میں پوست پر پابندی لگانے سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔ اقوام متحدہ کی خبر کے مطابق بعض کسان دوسری فصلوں کے درمیان پوست کے چھوٹے قطعے چھپاتے ہیں، جس سے پیمائش اور پابندی کے نفاذ میں مشکلات سامنے آتی ہیں۔
افغان حکام نے کیا جواب دیا؟
افغان وزارتِ داخلہ نے یو این او ڈی سی کے تخمینے مسترد کردیے۔ ترجمان مفتی عبدالمتین قانع کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر کی گئی جانچ میں فصل تلف کرنے کی کارروائیوں اور زمینی معلومات کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ پژواک افغان نیوز کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزارت کا مؤقف تھا کہ تقریباً 26 ہزار ہیکٹر پر منشیات پیدا کرنے والی فصلوں کی نشاندہی کے بعد انہیں پختہ ہونے سے پہلے تلف کیا گیا، جس سے وزارت کی اپنی جانچ میں باقی کاشت تقریباً ختم ہوگئی۔
یہ افغان وزارت کے دعوے ہیں، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ پیمائش نہیں۔ وزارت نے یو این او ڈی سی سے سیٹلائٹ تصاویر کی تاریخوں، مقامات، طریقۂ کار اور تلف شدہ فصلوں کے حساب سے متعلق مزید تفصیل مانگی۔
دونوں اعدادوشمار میں فرق کیوں اہم ہے؟
زمین پر موجود پوست کی کاشت اور حقیقت میں حاصل ہونے والی افیون کی مقدار دو مختلف پیمائشیں ہیں۔ فصل تلف ہونے کے وقت اور سروے کے طریقے سے پیداوار کے اندازے بدل سکتے ہیں۔ لہٰذا یو این او ڈی سی کی رپورٹ اور افغان وزارتِ داخلہ کے جوابی دعوے کو الگ الگ پڑھنا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے معاشی مشکلات سے دوچار کسانوں کے لیے متبادل روزگار کی حمایت پر بھی زور دیا۔
