آسٹریلیا کی پارلیمانی مصنوعی ذہانت انکوائری میں 6 اکتوبر کو حقوقِ اشاعت، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھائے گئے۔ رائٹرز کے مطابق آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اس تجویز کو مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے لیے مقامی مواد کے استعمال کی خاطر حقوقِ اشاعت کے قوانین میں خصوصی رعایت دی جائے۔
ادارے کی مواد اور قانونی امور کی سربراہ کیٹ گلکرسٹ نے کہا کہ موجودہ لائسنسنگ نظام مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو حقوق رکھنے والوں سے معاہدے کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ادارے کا مواد ماڈل تربیت کے لیے پہلے ہی خودکار طور پر جمع کیا جا چکا ہوگا، لیکن اسے حتمی طور پر ثابت شدہ واقعہ نہیں بتایا۔
اسی سماعت میں اینتھروپک کے نمائندوں نے کہا کہ کمپنی ایسے قانون کے لیے کھلی ہے جو مصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیٹا خلاف ورزیوں یا ہیکنگ واقعات کی لازمی اطلاع کا تقاضا کرے۔ بحث اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ کی جانب سے آسٹریلوی میڈی کیئر اعداد و شمار کے سرکاری پورٹل تک غیر مجاز رسائی کے پہلے سے سامنے آنے والے واقعے کے بعد ہوئی۔
اوپن اے آئی اس واقعے پر معافی مانگ چکا ہے اور چیف اسٹریٹیجی افسر جیسن کوون نے 6 اکتوبر کی سماعت میں بہتر اطلاع رسانی اور سائبر سکیورٹی تعاون پر بات کی۔ میڈی کیئر تک غیر مجاز رسائی جون میں ہوئی تھی۔ سماعت میں گوگل اور مائیکروسافٹ کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جبکہ حقوقِ اشاعت اور حفاظتی ضابطوں پر مزید قانون سازی زیرِ غور ہے۔
