بائیوہب اور اس کے سرکاری و نجی شراکت داروں نے مصنوعی ذہانت کے لیے حیاتیاتی تحقیق کا وسیع ڈیٹا تیار کرنے کی غرض سے مجموعی طور پر تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے وسائل مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بائیوہب کے 7 اکتوبر 2026 کے بیان اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام میں امریکی محکمہ توانائی، نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ اور گوگل و میٹا سے منسلک اداروں کا تعاون شامل ہے۔
منصوبے کا مقصد خلیات کے رویے اور مختلف حالات میں ان کے ردعمل سے متعلق ایسا قابلِ استعمال ڈیٹا مرتب کرنا ہے جس سے مصنوعی ذہانت کے تحقیقی ماڈل تربیت حاصل کرسکیں۔ محققین امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس کی مدد سے بیماریوں کے اسباب، نئی ادویات اور علاج سے متعلق تجربات زیادہ تیزی سے آگے بڑھیں گے۔
اس حکمت عملی میں بڑے پیمانے پر پیمائش، کمپیوٹنگ کی طاقت اور مشترکہ سائنسی وسائل کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بعض شراکت داروں کو ڈیٹا تک محدود خصوصی رسائی حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ بعد میں وسیع تر تحقیقی برادری تک رسائی کا منصوبہ بتایا گیا ہے۔
منصوبے کے اعلان میں واضح کیا گیا ہے کہ 1.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کسی بیماری کا علاج دریافت ہوجانے کا ثبوت نہیں۔ اس وقت اعلان بنیادی تحقیقی ڈھانچے اور ڈیٹا کی تیاری سے متعلق ہے، جبکہ طبی کامیابیوں کے بارے میں نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔
