پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی نئی قسط کے لیے عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ڈان کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی موسمیاتی و پائیداری سہولت کے تیسرے جائزے سے متعلق ہے۔
معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام بنیادی پالیسی اقدامات اور جائزے کے تقاضوں پر اتفاق تک پہنچے ہیں۔ تاہم عملے کی سطح کا اتفاق قرض کی رقم کی فوری ادائیگی نہیں ہوتا۔ متعلقہ داخلی منظوریوں اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کے بعد ہی قسط دستیاب ہوسکے گی۔
خبر کے مطابق مالیاتی ادارہ ایندھن کی وسیع اور مہنگی اعانتی اسکیم کو بتدریج ختم کرنے سمیت مالی نظم و ضبط پر زور دے رہا ہے۔ ایسی سفارشات سے عوامی اخراجات، بجٹ اور توانائی کی قیمتوں کی پالیسی پر بحث مزید اہم ہو سکتی ہے۔
حکومت کے لیے اگلا مرحلہ طے شدہ شرائط کی تکمیل اور بورڈ کی منظوری حاصل کرنا ہے۔ فی الحال منظور شدہ ادائیگی کی بجائے ابتدائی معاہدے کی خبر دینا زیادہ درست ہے۔
