بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 13 سے 20 ستمبر کے دوران نو مسلح کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ تفصیلات تنظیم سے منسوب بیانات کی رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔
دعوؤں میں کچ، دالبندین، خاران، مستونگ، خضدار، دشت، آواران اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تنظیم نے 20 ستمبر کو تمپ، کچ میں پاکستانی فوجی قافلے اور ایک چوکی کو نشانہ بنانے اور 19 ستمبر کو دالبندین میں ایک مواصلاتی ٹاور کے آلات جلانے کا دعویٰ کیا۔
تنظیم نے بعض کارروائیوں میں جانی نقصان کے دعوے بھی کیے ہیں، جن میں کوئٹہ کے سریاب علاقے میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ شامل ہے۔ مارگلہ نیوز ان جانی نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
اسی رپورٹنگ کے مطابق بلوچ ریپبلکن گارڈز نے کچھی میں ایک الگ کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مارگلہ نیوز ان تفصیلات کو مسلح تنظیموں کے دعووں کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں۔ ہر کارروائی، جانی نقصان اور دیگر عملی تفصیلات کی مکمل آزاد تصدیق دستیاب نہیں۔ سرکاری ردعمل یا قابلِ اعتماد آزاد تصدیق سامنے آنے پر خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
