امریکی دس سالہ ٹریژری ایک سرکاری بانڈ ہے جو دنیا میں طویل مدتی رقم کی قیمت کے اہم ترین پیمانوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کی “شرحِ پیداوار” وہ واپسی ہے جو سرمایہ کار بانڈ کو موجودہ منڈی قیمت پر خرید کر حاصل کرتا ہے۔ جب سرمایہ کار بانڈ بیچتے ہیں تو عموماً قیمت گرتی اور شرح بڑھتی ہے، جبکہ زیادہ طلب سے قیمت بڑھتی اور شرح کم ہوتی ہے۔
یہ امریکا سے باہر اس لیے اہم ہے کہ امریکی ٹریژری کو نسبتاً کم خطرے والے ڈالر اثاثے کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ بینک اور کمپنیاں بہت سے دوسرے قرضوں کی قیمت ٹریژری شرح کے اوپر اضافی خطرہ شامل کر کے طے کرتی ہیں۔
اس لیے دس سالہ شرح بڑھنے سے رہائشی قرض، کمپنی بانڈ اور بڑے منصوبوں کی فنانسنگ مہنگی ہو سکتی ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو بھی لکھ چکا ہے کہ بلند طویل مدتی شرح گھرانوں اور کاروبار کے قرض کی لاگت بڑھاتی ہے۔
حصص بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر محفوظ بانڈ زیادہ منافع دینے لگے تو سرمایہ کار دور مستقبل کے کمپنی منافع کی موجودہ قیمت کم سمجھ سکتے ہیں، جس سے تیز رفتار ترقی والی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر خاص دباؤ آ سکتا ہے۔
ابھرتی معیشتوں پر اثر ڈالر اور سرمایہ کے بہاؤ سے آتا ہے۔ امریکی اثاثے زیادہ منافع دیں تو سرمایہ خطرناک منڈیوں سے نکل سکتا ہے، مقامی کرنسی کمزور اور حکومتی قرض مہنگا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے دس سالہ امریکی ٹریژری صرف ایک امریکی عدد نہیں؛ یہ عالمی قرض اور خطرے کی قیمت کے لیے بنیادی حوالہ ہے۔
