“شرحِ سود بڑھے تو ڈالر اوپر اور حصص نیچے” ایک آسان اصول ہے، مگر حقیقی منڈیاں اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں۔
جب امریکی فیڈرل ریزرو شرح بڑھاتا ہے یا منڈی کو لگتا ہے کہ شرح طویل عرصے تک بلند رہے گی تو ڈالر میں جمع رقوم اور امریکی بانڈ زیادہ واپسی دے سکتے ہیں۔ اس سے سرمایہ امریکا کی طرف جا سکتا ہے اور ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ملکوں کے مقابلے میں جہاں شرح کم یا خطرہ زیادہ ہو۔
پاکستانی روپے جیسی ابھرتی منڈی کی کرنسی کے لیے مضبوط ڈالر مشکل پیدا کر سکتا ہے۔ درآمدی بل روپے میں مہنگا ہوتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار مقامی اثاثہ رکھنے کے لیے زیادہ منافع مانگ سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق ابھرتی معیشتوں میں کرنسی کی قدر میں کمی کا مہنگائی پر اثر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
حصص اکثر بلند شرح سے دباؤ میں آتے ہیں کیونکہ قرض مہنگا ہوتا ہے اور مستقبل کے منافع کی موجودہ قدر کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر معاشی نمو مضبوط ہو تو حصص پھر بھی بڑھ سکتے ہیں۔
سونا بھی ہمیشہ ایک ہی سمت نہیں چلتا۔ چونکہ سونا سود نہیں دیتا، اس لیے حقیقی شرح بڑھنے سے بانڈ زیادہ پرکشش ہو سکتے ہیں۔ مگر جنگ، مہنگائی یا مالی خوف بڑھے تو اسی وقت سونا بھی اوپر جا سکتا ہے۔
روپے پر صرف امریکی شرح نہیں، بلکہ پاکستان کی مہنگائی، اپنے سودی نرخ، زرِ مبادلہ ذخائر، درآمدات، برآمدات، ترسیلات اور بیرونی فنانسنگ بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسی لیے منڈی اصل فیصلے سے زیادہ اس بات پر ردعمل دیتی ہے کہ فیصلہ توقع سے کتنا مختلف تھا۔
