افغانستان کی وزارتِ توانائی و آب کا کہنا ہے کہ ملک میں 24 چھوٹے اور بڑے ڈیم یا تو فعال ہیں یا تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق ان منصوبوں کا استعمال پن بجلی پیدا کرنے، زرعی زمینوں کو آبپاشی فراہم کرنے اور پانی کے وسائل کو بہتر طور پر منظم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزارت نے بخش آباد، پلتونی، شفلغ اور دوسرے بڑے آبی منصوبوں کے ساتھ قوش تیپہ، شاہی اور نہرِ سراج جیسے نہری منصوبوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق متعدد درمیانے اور بڑے ڈیم پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور ان سے بجلی اور آبپاشی دونوں میں فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ 24 کا مجموعی عدد وزارت کا فراہم کردہ ہے۔
افغانستان میں پانی کا مسئلہ صرف ڈیموں کی تعداد سے حل نہیں ہوتا۔ ذخیرہ گنجائش، بارش اور برف باری میں سالانہ تبدیلی، نہروں کی حالت، زیرِزمین پانی، آبپاشی کی کارکردگی اور مقامی تقسیم سب مل کر طے کرتے ہیں کہ دستیاب پانی زرعی اور شہری ضرورتوں تک کتنی مؤثر طریقے سے پہنچتا ہے۔
خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اہم ہے، لیکن واٹرشیڈ مینجمنٹ، چھوٹے ذخائر، سیلابی پانی کو محفوظ کرنا اور کھیتوں میں پانی کے ضیاع کو کم کرنا بھی اسی نظام کے حصے ہیں۔ بڑے ڈیم طویل تعمیراتی مدت اور زیادہ مالی وسائل بھی مانگتے ہیں۔
پن بجلی کے نقطۂ نظر سے ڈیم مقامی توانائی پیداوار بڑھا سکتے ہیں، تاہم بجلی کی حقیقی دستیابی ٹربائن صلاحیت، موسمی پانی کے بہاؤ، ٹرانسمیشن لائنوں اور گرڈ کی حالت پر بھی منحصر رہتی ہے۔ اس لیے ہر منصوبے کا اثر اس کی نامیاتی گنجائش کے بجائے سالانہ پیداوار اور آبپاشی کی عملی خدمت سے زیادہ درست طور پر ناپا جا سکتا ہے۔
