افغانستان میں حالیہ دنوں میں ایسے کئی منصوبے سامنے آئے ہیں جو ایک ہی صنعتی فراہمی زنجیر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کابل اور پروان میں بجلی کے نئے منصوبے شروع ہوئے ہیں، دوسری کابل–جلال آباد شاہراہ کے بڑے حصے پر تعمیر جاری ہے، ہرات میں 3 ہزار ٹن گنجائش کا کولڈ اسٹوریج قائم ہوا ہے اور صنعتی پارکوں کے لیے بڑے پیمانے پر زمین مختص کرنے کا پروگرام بھی جاری ہے۔
صنعتی زمین کارخانہ لگانے کے لیے جگہ فراہم کرتی ہے، لیکن صرف زمین سے پیداوار شروع نہیں ہوتی۔ مشینری چلانے کے لیے مستقل بجلی درکار ہوتی ہے۔ اگر بجلی بار بار بند ہو تو پیداوار رکتی ہے، مزدور اور مشین دونوں غیر استعمال شدہ رہتے ہیں اور کاروبار کو مہنگے متبادل ذرائع پر خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے کابل اور پروان کے نئے گرڈ منصوبے صرف بجلی کے شعبے کی خبر نہیں بلکہ صنعتی لاگت اور پیداواری تسلسل سے بھی جڑے ہیں۔
دوسرا بنیادی عنصر ٹرانسپورٹ ہے۔ کارخانوں کو خام مال اندر لانے اور تیار مصنوعات شہروں، سرحدی گزرگاہوں اور برآمدی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے قابلِ اعتماد سڑکیں چاہیے۔ کابل–جلال آباد کا موجودہ راستہ دشوار گزار پہاڑی علاقے سے گزرتا ہے۔ دوسری شاہراہ مکمل ہونے کی صورت میں اضافی گنجائش فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کا فائدہ تعمیر مکمل ہونے، سڑک کی حالت اور مسلسل دیکھ بھال پر منحصر ہوگا۔
زرعی صنعت کے لیے ذخیرہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ ہرات میں 3 ہزار ٹن گنجائش کا نیا کولڈ اسٹوریج پھل اور سبزیوں کو فصل کے فوراً بعد کم قیمت پر فروخت کرنے کے دباؤ کو کچھ حد تک کم کر سکتا ہے۔ مناسب سرد زنجیر ہونے سے کسان اور تاجر پیداوار کو زیادہ دیر محفوظ رکھ سکتے ہیں، مگر اس کے لیے بجلی، نقل و حمل اور منڈی تک رسائی ایک ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
صنعتی پارکوں میں یہی تمام ضروریات ایک جگہ جمع ہوتی ہیں۔ زمین مختص ہونے کے بعد بجلی، پانی، اندرونی سڑک، مواصلات اور کاروباری خدمات نہ ہوں تو پلاٹ استعمال میں نہیں آتے۔ اسی طرح بجلی موجود ہو مگر خام مال یا تیار مال کی ترسیل مہنگی ہو تو کارخانے کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔
حالیہ منصوبوں کا مشترک معاشی نکتہ یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے مختلف حصے ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اگلا امتحان منصوبوں کے اعلانات نہیں بلکہ بروقت تکمیل، حقیقی گنجائش کا استعمال، قابلِ برداشت لاگت اور نجی سرمایہ کاری کا تسلسل ہوگا۔ انہی عوامل سے معلوم ہوگا کہ موجودہ منصوبے افغانستان میں صنعتی پیداوار اور زرعی قدر میں عملی اضافہ کرتے ہیں یا نہیں۔
