مواد پر جائیں

افغانستان کے صنعتی پارکوں کے لیے 1 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین کا پروگرام کہاں تک پہنچا؟

وزارتِ صنعت و تجارت کے نائب وزیر کے مطابق صنعتی پارکوں کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین مختص کی گئی اور تقریباً ایک لاکھ ایکڑ وزارت کو منتقل ہو چکی ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

افغانستان کی وزارتِ صنعت و تجارت کے نائب وزیر احمداللہ زاہد کے مطابق صنعتی پارکوں کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین مختص کی گئی ہے، جن میں سے تقریباً ایک لاکھ ایکڑ زمین وزارت کو باضابطہ طور پر منتقل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی زمین کی منتقلی کا عمل جاری ہے اور کئی صوبوں میں صنعتی زمین کی تقسیم پر کام ہو رہا ہے۔

زاہد نے ملک میں تقریباً 5 ہزار صنعتی کارخانوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ تین برس میں صنعتی فیکٹریوں کی تعداد بڑھی ہے۔ یہ دونوں اعداد وزارت کے حکام کے فراہم کردہ ہیں اور انہیں اسی نسبت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ فعال کارخانوں، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے لیے ایک جامع آزادانہ قومی فہرست دستیاب نہیں۔

صنعتی زمین کی دستیابی سرمایہ کاری کی ایک بنیادی شرط ہے، لیکن زمین مل جانا خود بخود فعال صنعتی پارک نہیں بناتا۔ کارخانوں کے لیے بجلی، پانی، سڑک، نکاسی، گودام، بینکاری، خام مال اور منڈیوں تک رسائی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ان خدمات میں تاخیر ہو تو مختص زمین طویل عرصے تک مکمل پیداواری استعمال میں نہیں آ پاتی۔

حالیہ ہفتوں میں بلخ، قندوز اور بغلان سمیت کئی صوبوں میں صنعتی پارک منصوبوں کا آغاز یا توسیع سامنے آئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین مختص کرنے کی پالیسی کو صوبائی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ہر منصوبے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ وہاں قائم ہونے والے کارخانوں، استعمال ہونے والے رقبے اور مستقل روزگار سے ہوگا۔

افغان صنعت کے لیے اگلا مرحلہ صرف مزید رقبہ اعلان کرنا نہیں بلکہ پہلے سے مختص زمین کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ قابلِ استعمال بنانا ہے۔ اسی سے یہ معلوم ہوگا کہ زمین کی پالیسی کس حد تک حقیقی پیداوار، درآمدی متبادل اور برآمدی صلاحیت میں تبدیل ہوتی ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-afghanistan-industrial-land-160000-acres-2026-09-24?lang=ur