افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، لیکن اسی جغرافیائی حیثیت میں ایک بڑی اقتصادی صلاحیت بھی چھپی ہے۔ اس کے شمال میں وسطی ایشیا، جنوب اور مشرق میں پاکستان و جنوبی ایشیا، مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کا خطہ موجود ہے۔ اگر ان علاقوں کے درمیان سامان، بجلی، گیس اور دیگر تجارتی بہاؤ افغانستان سے گزرے تو ملک ایک اہم علاقائی راہداری بن سکتا ہے۔
راہداری تجارت سے مراد وہ تجارت ہے جس میں ایک ملک کا سامان دوسرے ملک تک پہنچنے کے لیے کسی تیسرے ملک کی سرزمین سے گزرتا ہے۔ راہداری ملک ضروری نہیں کہ وہ سامان خود خریدے، مگر وہ ٹرانسپورٹ، گودام، ایندھن، سرحدی خدمات، گاڑیوں کی مرمت، مالی خدمات اور دوسرے کاروبار سے آمدن حاصل کر سکتا ہے۔
عالمی بینک کی تحقیق میں کئی برس سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ افغانستان اپنی جغرافیائی جگہ کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی رابطے میں بدل سکتا ہے۔ توانائی کے منصوبے، زمینی راستے اور علاقائی منڈیاں اس موقع کو مزید بڑا بنا سکتی ہیں۔
لیکن صرف نقشے پر مختصر راستہ ہونا کافی نہیں۔ تاجر اس راستے کو ترجیح دیتے ہیں جو وقت، خرچ اور قواعد کے لحاظ سے قابلِ پیش گوئی ہو۔ اگر کسٹم پر کئی دن لگ جائیں، سرحد بار بار بند ہو، سڑک خراب ہو، قواعد اچانک بدلیں یا رقوم کی ادائیگی مشکل ہو تو جغرافیائی فائدہ ختم ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ریل رابطے، ٹی اے پی آئی، کاسا ایک ہزار، سرحدی نظام کی جدید کاری اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی جیسے منصوبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔ ہر منصوبہ رابطے کے ایک الگ مسئلے کو حل کرتا ہے۔
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اگر بہت زیادہ سامان افغانستان سے گزرے تو لازماً بہت زیادہ منافع بھی افغانستان ہی کو ملے گا۔ اصل فائدہ تب بڑھتا ہے جب مقامی ٹرانسپورٹ کمپنیاں، گودام، بینک، بیمہ، منڈیاں اور کاروبار اس راستے سے جڑیں اور ملک صرف گزرگاہ نہ رہے۔
افغانستان کے لیے طویل مدتی ہدف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ صرف دو خطوں کے درمیان سڑک نہ ہو بلکہ ایسا اقتصادی مرکز بنے جہاں راہداری تجارت روزگار، توانائی، خدمات، سرمایہ کاری اور مقامی کاروبار پیدا کرے۔ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ قابلِ اعتماد ادارے اور مستقل سرحد پار تعاون بھی ضروری ہیں۔


