مواد پر جائیں

کیا کوئی ملک سرحد پار فضائی حملہ کر سکتا ہے؟ بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے

اقوام متحدہ کا منشور عمومی طور پر دوسرے ملک کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکتا ہے، جبکہ دفاعِ خودی اور سلامتی کونسل کی اجازت اہم استثنا ہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

سرحد پار فضائی حملوں کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے دو الگ حصوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کسی ریاست کو طاقت استعمال کرنے کا قانونی حق تھا یا نہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مسلح تنازع شروع ہونے کے بعد طاقت کس طرح استعمال کی جا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2 شق 4 ریاستوں کو کسی دوسرے ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے روکتی ہے۔ اس اصول کے دو واضح استثنا ہیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت، یا مسلح حملے کے جواب میں دفعہ 51 کے تحت انفرادی یا اجتماعی دفاعِ خودی۔

سب سے پیچیدہ صورت وہ ہوتی ہے جب کوئی غیر ریاستی مسلح گروہ دوسرے ملک کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہا ہو۔ سرحد پار حملہ کرنے والی ریاست عموماً یہ دلیل دیتی ہے کہ وہ جاری یا فوری خطرے کے خلاف دفاعِ خودی کر رہی ہے۔ جس ریاست کی حدود میں حملہ ہوتا ہے وہ اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے سکتی ہے۔ ماہرینِ قانون میں اس بات پر بھی اختلاف ہوتا ہے کہ خطرہ کتنا فوری ہونا چاہیے، میزبان ریاست اس گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل یا تیار ہے یا نہیں، اور جوابی کارروائی ضروری اور متناسب تھی یا نہیں۔

اس سے الگ بین الاقوامی انسانی قانون ہے، جو مسلح تنازع کے دوران حملوں کے طریقے کو منظم کرتا ہے۔ اس کے تحت شہریوں اور فوجی اہداف میں فرق، حملے میں تناسب اور شہری نقصان کم کرنے کے لیے احتیاط لازم ہے۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ کوئی ملک اپنے حملے کو دفاعِ خودی قرار دے سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ہدف، ہتھیار اور شہری ہلاکتوں کے بارے میں الگ قانونی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اسی طرح صرف درست ہدف بندی یہ ثابت نہیں کرتی کہ سرحد پار طاقت کا استعمال بذاتِ خود قانونی تھا۔

ایسی خبروں میں تین سوال الگ رکھنا زیادہ درست ہے: طاقت استعمال کرنے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ کارروائی ضروری اور متناسب تھی یا نہیں؟ اور کیا شہریوں کے تحفظ کے قواعد پر عمل کیا گیا؟

سیکشن اور موضوعات

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-cross-border-airstrikes-international-law-2026-09-25?lang=ur