مواد پر جائیں
وضاحتی رپورٹتصدیق شدہ

آپ کا موبائل GPS کے ذریعے آپ کی جگہ کیسے جانتا ہے؟ آسمان میں سیٹلائٹ، زمین پر چند میٹر کی درستگی

موبائل میں نقشہ کھولتے ہی نیلا نقطہ آپ کی جگہ دکھا دیتا ہے، مگر اس کے پیچھے ہزاروں کلومیٹر دور سیٹلائٹس، روشنی کی رفتار اور انتہائی درست وقت کا حساب کام کر رہا ہوتا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

شیئر
ای میل

آپ کسی اجنبی شہر میں گاڑی چلا رہے ہوں، موبائل پر نقشہ کھولیں اور چند لمحوں میں ایک نیلا نقطہ بتا دیتا ہے کہ آپ کس سڑک پر ہیں۔ بظاہر یہ بہت سادہ چیز لگتی ہے، مگر اس چھوٹے سے نقطے کے پیچھے زمین سے تقریباً بیس ہزار کلومیٹر اوپر گردش کرنے والے سیٹلائٹس، انتہائی درست گھڑیاں، روشنی کی رفتار اور ریاضی کا مسلسل حساب کام کر رہا ہوتا ہے۔

GPS یعنی Global Positioning System بنیادی طور پر ایک سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ہے۔ سرکاری GPS معلومات کے مطابق اس نظام کے تین بنیادی حصے ہیں: خلا میں موجود سیٹلائٹس، زمین پر نگرانی اور کنٹرول کرنے والے اسٹیشن، اور ہمارے فون یا دوسرے آلات میں موجود GPS ریسیور۔ خلا والا حصہ مسلسل ریڈیو سگنلز بھیجتا ہے جن میں یہ معلومات شامل ہوتی ہیں کہ سیٹلائٹ اس لمحے کہاں ہے اور اس سگنل کو کس انتہائی درست وقت پر بھیجا گیا تھا۔

اصل کمال وقت کے حساب میں ہے۔ ریڈیو سگنل تقریباً روشنی کی رفتار سے سفر کرتا ہے، یعنی تقریباً 299,792,458 میٹر فی سیکنڈ۔ آپ کے فون کا GPS ریسیور اندازہ لگاتا ہے کہ کسی سیٹلائٹ سے سگنل کو آپ تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا۔ رفتار معلوم ہے، وقت معلوم ہو جائے تو فاصلہ نکالا جا سکتا ہے۔ یہی بنیادی فارمولا ہے: فاصلہ برابر رفتار ضرب وقت۔

لیکن صرف ایک سیٹلائٹ آپ کی جگہ نہیں بتا سکتا۔ اگر کسی ایک سیٹلائٹ سے آپ کا فاصلہ معلوم ہو تو آپ زمین پر ایک بہت بڑے ممکنہ دائرے میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے سیٹلائٹ کا فاصلہ شامل کرنے سے امکانات کم ہوتے ہیں۔ تیسرے اور چوتھے سیٹلائٹ کے سگنل ملنے پر ریسیور آپ کی تین جہتی پوزیشن اور اپنے وقت کی غلطی کو حل کر سکتا ہے۔ اسے عام طور پر trilateration کہا جاتا ہے۔ عملی GPS نظام عموماً بیک وقت چار یا اس سے زیادہ سیٹلائٹس کے سگنلز استعمال کرتا ہے۔

GPS سیٹلائٹس زمین کے درمیانی مدار میں تقریباً 20,200 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں۔ سرکاری GPS معلومات کے مطابق بنیادی ڈیزائن کم از کم 24 عملی سیٹلائٹس پر مبنی ہے، جبکہ کئی برسوں سے اس سے زیادہ سیٹلائٹس مدار میں رکھے جاتے رہے ہیں تاکہ کوریج اور دستیابی بہتر ہو۔ ان کی ترتیب اس طرح رکھی گئی ہے کہ زمین کے بیشتر حصوں سے ایک ہی وقت میں متعدد سیٹلائٹس دیکھے جا سکیں۔

یہاں ایک اہم غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری ہے: عام طور پر آپ کا فون GPS کے ذریعے اپنی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے سیٹلائٹ کو کوئی پیغام نہیں بھیجتا۔ GPS سیٹلائٹس یک طرفہ سگنل نشر کرتے ہیں اور فون انہیں وصول کر کے حساب کرتا ہے۔ یعنی بنیادی GPS پوزیشننگ کے لیے سیٹلائٹ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ آپ کون ہیں یا کہاں ہیں۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ Maps کو سڑک، دکان اور گھر کا نام کیسے معلوم ہوتا ہے؟ GPS صرف latitude، longitude، altitude اور وقت جیسی بنیادی پوزیشننگ معلومات دیتا ہے۔ Google Maps، Apple Maps یا دوسری mapping services اس مقام کو اپنی نقشہ جاتی database سے ملاتی ہیں۔ اسی لیے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ GPS پوزیشن تقریباً درست ہوتی ہے مگر نقشے میں سڑک یا دکان غلط دکھائی دیتی ہے۔ یہ GPS کی نہیں بلکہ map data کی غلطی ہو سکتی ہے۔

کھلے آسمان کے نیچے جدید smartphone GPS اکثر چند میٹر کے اندر پوزیشن بتا سکتا ہے۔ GPS.gov کے مطابق GPS-enabled smartphones عام کھلے ماحول میں تقریباً 4.9 میٹر کے radius کے اندر درستگی حاصل کر سکتے ہیں، اگرچہ اصل نتیجہ فون، ماحول اور دستیاب سیٹلائٹس پر منحصر ہوتا ہے۔ پیشہ ورانہ dual-frequency receivers اور correction systems اس درستگی کو سینٹی میٹر سطح تک بھی لے جا سکتے ہیں۔

تو پھر بلند عمارتوں کے درمیان نیلا نقطہ کیوں اچھلنے لگتا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ عمارتیں سیٹلائٹ سگنل کو روک سکتی ہیں، یا سگنل دیوار سے ٹکرا کر فون تک پہنچ سکتا ہے۔ اس reflected signal نے اضافی فاصلہ طے کیا ہوتا ہے، لہٰذا فون اسے غلط distance سمجھ سکتا ہے۔ اسے multipath error کہا جاتا ہے۔ سرنگ، basement اور بڑی عمارت کے اندر GPS کمزور ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ آسمان کا واضح نظارہ نہیں ہوتا۔

فضا بھی سگنل پر اثر ڈالتی ہے۔ سیٹلائٹ سے نکلنے والا ریڈیو سگنل زمین تک پہنچتے ہوئے ionosphere اور atmosphere سے گزرتا ہے۔ جدید receivers اور dual-frequency techniques ان اثرات کا بڑا حصہ درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے نئے فون پرانے آلات کے مقابلے میں عموماً بہتر پوزیشننگ دے سکتے ہیں۔

آپ نے شاید محسوس کیا ہو کہ کبھی فون GPS بند ہونے کے باوجود بھی تقریباً درست جگہ دکھا دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ smartphones صرف GPS پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ Wi-Fi networks، mobile towers، Bluetooth beacons اور motion sensors جیسی معلومات بھی ملا سکتے ہیں۔ Assisted GPS یا مختلف location services سیٹلائٹ fix آنے سے پہلے بھی ایک اندازاً جگہ بتا دیتی ہیں، جبکہ GPS اس اندازے کو مزید درست کرتا ہے۔

GPS صرف راستہ دکھانے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا ایک کم نظر آنے والا مگر انتہائی اہم کام وقت کی درست synchronization ہے۔ GPS سیٹلائٹس میں انتہائی درست atomic clocks ہوتی ہیں۔ یہی وقت telecom networks، مالیاتی نظام، بجلی کے کچھ infrastructure، scientific measurements اور بہت سے صنعتی نظاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی GPS اچانک بند ہو جائے تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ Google Maps کام نہیں کرے گا؛ متعدد نظاموں کو درست وقت اور synchronization برقرار رکھنے میں بھی مشکل پیش آ سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ GPS میں چند billionths of a second کی timing error بھی فاصلے کے حساب میں نمایاں غلطی پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ریڈیو سگنل روشنی کی رفتار سے چل رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے سیٹلائٹ clocks، زمین پر control stations اور receiver algorithms مسلسل correction کرتے رہتے ہیں۔

اگلی بار جب آپ موبائل پر نقشہ کھولیں اور نیلا نقطہ آپ کے ساتھ سڑک پر حرکت کرے تو یاد رکھیے: آپ کے ہاتھ میں موجود فون آسمان میں ہزاروں کلومیٹر دور کئی سیٹلائٹس سے آنے والے انتہائی کمزور ریڈیو سگنلز کا وقت ناپ رہا ہے، ان سے فاصلہ نکال رہا ہے اور چند لمحوں میں یہ حساب کر رہا ہے کہ زمین کے اس بڑے کرۂ ارض پر آپ کہاں کھڑے ہیں۔

ماخذ: GPS.gov — GPS Overview، Trilateration، Space Segment اور GPS Accuracy.

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-how-gps-finds-your-location-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://www.gps.gov/gps

اگلا قدم

ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔