برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جائے تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت اسی تناسب سے فوراً نہیں بڑھتی، لیکن دباؤ کئی راستوں سے معیشت تک پہنچتا ہے۔
پہلا راستہ درآمدی بل ہے۔ پاکستان خام تیل، تیار پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کا خالص درآمد کنندہ ہے۔ عالمی قیمت ڈالر میں بڑھنے سے اتنی ہی توانائی خریدنے کے لیے زیادہ زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ اگر روپے کی قدر بھی گرے تو مقامی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔
دوسرا اثر نقل و حمل پر ہوتا ہے۔ ڈیزل ٹرک، بس، زرعی مشینری اور جنریٹر میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے سے خوراک، تعمیراتی سامان اور تیار اشیا کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
تیسرا راستہ بجلی ہے۔ پاکستان کے بجلی نظام میں مقامی اور درآمدی دونوں ایندھن شامل ہیں۔ مائع گیس، کوئلہ یا تیل مہنگا ہو تو پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے، اگرچہ اصل اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سے بجلی گھر چل رہے ہیں اور نرخ کیسے ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں۔
حکومتی پالیسی بھی اہم ہے۔ پٹرول اور ڈیزل میں ٹیکس اور لیوی شامل ہوتے ہیں، اس لیے حکومت مالی چارج کم یا بڑھا کر عالمی قیمت کے اثر کو وقتی طور پر نرم یا سخت کر سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی 2026 پاکستان رپورٹ نے بتایا کہ پاکستان کی ایندھن درآمدات کا 81 فیصد خلیجی خطے سے تھا۔ اسی لیے مشرقِ وسطیٰ کا بحران پاکستان کے لیے خاص طور پر حساس ہے۔
اصل سلسلہ یہ ہے: عالمی تیل اور فریٹ لاگت درآمدی بل بڑھاتی ہے، شرحِ مبادلہ اسے روپے میں تبدیل کرتی ہے، ٹیکس اور قیمت کا فارمولا پمپ کی قیمت طے کرتا ہے، اور پھر نقل و حمل و بجلی کے ذریعے اثر پوری معیشت میں پھیلتا ہے۔
