ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ایک بہت بڑا تانبہ اور سونا ذخیرہ ہے۔ اسے دنیا کے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ و سونا منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
منصوبے کا آپریٹر بیرک مائننگ ہے۔ موجودہ ملکیتی ڈھانچے کے تحت بیرک کے پاس 50 فیصد حصہ ہے، پاکستان کے وفاقی سرکاری اداروں کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد اور حکومتِ بلوچستان کے پاس 25 فیصد حصہ ہے۔ بلوچستان کے حصے کا ایک حصہ ایسے انتظام کے تحت ہے جس سے صوبے کو ابتدائی سرمایہ مکمل طور پر خود فراہم نہیں کرنا پڑتا۔
منصوبہ بہت بڑا ہے۔ بیرک کی 2025 کے اختتام کی معدنی ذخائر رپورٹ کے مطابق اس کے 50 فیصد منسوب حصے میں تقریباً ڈیڑھ ارب ٹن ممکنہ تانبہ خام مال شامل ہے، جس کا اوسط گریڈ تقریباً 0.48 فیصد ہے اور اس میں قریب 73 لاکھ ٹن تانبا موجود ہے۔ یہ بیرک کے نصف حصے کا عدد ہے، پورے منصوبے کا نہیں۔ ریکوڈک میں سونے کے بھی بڑے ذخائر ہیں۔
لیکن ایسی کان صرف ذخیرے کے سائز سے نہیں بنتی۔ اربوں ڈالر سرمایہ، بجلی، پانی، سڑکیں، پراسیسنگ پلانٹ، افرادی قوت اور برآمدی نظام درکار ہوتے ہیں۔
2026 میں بیرک نے پاکستان اور خطے میں بڑھتے سکیورٹی خدشات کے باعث منصوبے کا جائزہ بڑھایا اور ترقیاتی رفتار کم کی۔ کمپنی نے طویل مدتی قدر پر اعتماد برقرار رکھا، مگر بجٹ اور شیڈول میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا۔
پاکستان کے لیے یہ برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکس اور روزگار کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بلوچستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ صوبے اور مقامی آبادی کو آمدنی، ملازمت اور بنیادی سہولیات میں کتنا حصہ ملتا ہے۔
اسی لیے “زمین کے نیچے کھربوں ڈالر” جیسے جملے سادہ مگر گمراہ کن ہو سکتے ہیں۔ معدنی ذخیرہ نقد دولت نہیں ہوتا؛ اصل قدر قیمت، اخراجات، سکیورٹی، سرمایہ اور کئی دہائیوں کی کامیاب پیداوار پر منحصر ہوتی ہے۔
