آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرۂ عمان اور پھر بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ راستہ چھوٹا ہے، مگر عالمی توانائی تجارت میں اس کی اہمیت بہت بڑی ہے، کیونکہ خلیجی ممالک سے نکلنے والا خام تیل، تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس بڑی مقدار میں اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
امریکی ادارہ برائے توانائی معلومات کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً تقریباً دو کروڑ نو لاکھ بیرل تیل اور پیٹرولیم مائعات گزرے۔ یہ مقدار دنیا میں روزانہ استعمال ہونے والے پیٹرولیم مائعات کے تقریباً بیس فیصد کے برابر تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی تمام توانائی کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تیل کی عالمی تجارت میں یہ راستہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت اور قطر سمیت خلیج کے کئی ممالک اپنی توانائی برآمدات کے لیے اس سمندری راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر جنگ، حملوں، بارودی سرنگوں، بیمہ کی پابندیوں یا بندرگاہی مسائل کی وجہ سے جہاز رانی کم ہو جائے تو تیل کی عالمی قیمتیں صرف حقیقی کمی پر نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ قلت کے خدشے پر بھی ردعمل دیتی ہیں۔
متبادل راستے موجود ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی پائپ لائنیں ہیں جو کچھ تیل آبنائے ہرمز سے گزارے بغیر دوسری بندرگاہوں تک پہنچا سکتی ہیں، لیکن ان کی اضافی گنجائش معمول کے ہرمز بہاؤ سے بہت کم ہے۔ اسی لیے آبنائے کی مکمل بندش کو فوری طور پر کسی دوسرے راستے سے پورا کرنا مشکل ہوگا۔
قطر کی مائع قدرتی گیس بھی اسی علاقے سے گزرتی ہے، اس لیے ہرمز میں خلل صرف تیل نہیں بلکہ گیس اور بجلی کی عالمی قیمتوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ ہرمز سے متعلق ہر کشیدگی کا مطلب مکمل بندش ہوتا ہے۔ حقیقت میں آمدورفت جزوی طور پر کم، سست یا غیر منظم ہو سکتی ہے۔ جہازوں کی نگرانی کے اعداد بھی مکمل نہیں ہوتے، کیونکہ بعض جہاز اپنے شناختی اشارے کم یا بند کر سکتے ہیں۔
اس لیے کسی بھی ہرمز خبر کو سمجھنے کے لیے تین سوال اہم ہیں: حقیقت میں کتنے جہاز گزر رہے ہیں، متبادل راستے کتنی مقدار سنبھال سکتے ہیں، اور خلل چند گھنٹوں کا ہے یا طویل عرصے کا۔


